کہسار کاٹ کر نیا رستہ بناؤں گا جھرنے سمیٹ کر انہیں دریا بناؤں گا مٹی کو رکھ کے چاک پہ
سلامتی کی دعاؤں میں میرا نام بھی تھا دعائیں بانٹنے والے کا اک مقام بھی تھا وہ میرے پاس جو
بے بسی کی آخری حد ہوں گوارا کر مجھے شوخ لفظوں میں نہ یوں بالکل پکارا کر مجھے ایک
سمجھو تو ہر ایک سویرا اپنا ہے چاروں جانب گھور اندھیرا اپنا ہے ہم شعروں سے نقب لگا کر
وہ زباں کھولے تو پھر سارا جہاں بولتا ہے ورنہ اس شہر میں سچ کوئی کہاں بولتا ہے حاکمِ
در و دیوار گھر کے آبدیدہ پڑا ہے ایک لاشہ سر بریدہ اگر میں داستاں کہہ دوں زمانے تمہیں اچھے
میری خاطر ابھی سجی نہیں ہے وہ جو دل کو مرے لگی نہیں ہے اپنے جیسے ہزار دیکھے ہیں تیرے
خواب کے رنگ میں پوشیدہ حقیقت ہے کوئی تیری آنکھوں میں چھپی میری محبت ہے کوئی تیرا چہرہ مرے خوابوں
میری آنکھوں کو دود کر گئی ہے عمر بھر کا قیود کر گئی ہے ہجر آلود گفتگو تیری ریزہ ریزہ
ترے بغیر مجھے جینے کا مزہ ہی نہیں کہ میرے دل میں بچھڑنے کا حوصلہ ہی نہیں تمہارا ہونا سمندر









