بے بسی کی آخری حد ہوں گوارا کر مجھے
شوخ لفظوں میں نہ یوں بالکل پکارا کر مجھے
ایک مدت سے توجہ بھی تری دیکھی نہیں
دل کی خواہش ہے محبت کا اشارہ کر مجھے
جس طرح ماضی میں مجھ سے اک تعلق تھا ترا
اس طرح آباد دل میں اب دوبارہ کر مجھے
التجا میری بس اتنی سی ہے گر تو سن سکے
بے سبب دشتِ فنا سے مت گزارا کر مجھے
اک تعلق اب بھی باقی ہے اگر تو مان لے
روشنی کی اک کرن دے کر ستارہ کر مجھے
ڈوبنے لگتا ہوں جس پل غم کے دریا میں کبھی
حوصلہ دے کر محبت سے ابھارا کر مجھے
کیوں سناتا ہے مجھے ماضی کے قصے بے سبب
سوچ کی دلدل میں زاہد مت اتارا کر مجھے
حکیم محبوب زاہد