Skip to main content
صفحہ اول
تمام تحریریں
اسلامی مضامین
شاعری
طنز و مزاح
کالم
Blog
کہسار کاٹ کر نیا رستہ بناؤں گا
Profile
Photos
Reviews
کہسار کاٹ کر نیا رستہ بناؤں گا
جھرنے سمیٹ کر انہیں دریا بناؤں گا
مٹی کو رکھ کے چاک پہ میں سوچتا پھروں
دنیا کو کیوں یہ فکر ہے میں کیا بناؤں گا
تم ڈھونڈتے پھرو گے مری آنکھ میں نمی
میں اپنے ضبط سے اسے صحرا بناؤں گا
قرطاس پر بناؤں گا تصویر خوش جمال
بچہ لبِ فرات میں پیاسا بناؤں گا
سورج کواپنے سامنے لاؤں گا اس لئے
بچوں کے سر پہ دھوپ میں سایا بناؤں گا
پیغام لا رہی ہے جو خوشیوں بھری ہوا
ماحول اس کے واسطے تازہ بناؤں گا
تاریک راستوں میں وہ جگنو نہیں رہے
روشن کروں گا خود کو اجالا بناؤں گا
زاہد وہ جن سے کھو گیا ہےگھر کا راستہ
ان کے لئے میں شہر کا نقشہ بناؤں گا
حکیم محبوب زاہد
Leave a Review
Cancel reply
Your email address will not be published.
Enter your comment here…
Select a rating
Name
*
Email
*
Website
Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.
Similar places
New
غزل: مزمل حسین چیمہ
Favorite
دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے
دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے یہی تعلقِ دیرینہ ہے طبیعت سے ہر ایک کو جو جتانے لگے
New
غزل: مزمل حسین چیمہ
Favorite
عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں
عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں میں کہ حیراں ہوں کہ حیران ہو سکتا ہوں میں خود شناسی
New
غزل: مزمل حسین چیمہ
Favorite
باوجود اس کے یہ جہاد نہیں
باوجود اس کے یہ جہاد نہیں عشق کو عشق کہہ فساد نہیں بس تمہیں چومنا لطافت ہے چومنے میں کوئی
غزلیں
Favorite
کہاں فرقت میں جینے کا قرینہ ہے اسے کہنا
کہاں فرقت میں جینے کا قرینہ ہے اسے کہنا بھنور میں میری خواہش کا سفینہ ہے اسے کہنا ہماری سمت
غزلیں
Favorite
وہ ایک شخص جو لوٹا نہیں ابھی تک بھی
وہ ایک شخص جو لوٹا نہیں ابھی تک بھی مگر وہ دل سے بھلایا نہیں ابھی تک بھی جو ایک
غزلیں
Favorite
بات یہ ہے کہ بات کوئی نہیں
بات یہ ہے کہ کوئی بات نہیں اب زباں بھی ہمارے ساتھ نہیں بجھ چکے ہیں چراغ اندر سے اس
غزلیں
Favorite
لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے
لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے اور ہم سٹپٹا رہے ہوں گے تم بغاوت کی بات کرتے ہو ہم
غزلیں
Favorite
کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا
کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا گلہ بنتا ہے اب بے کار اپنا پس پردہ بہت بے پردگی ہے
غزلیں
Favorite
دل درویش کی دعا سے اٹھا
دل درویش کی دعا سے اٹھا یہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھا جسم الجھا مگر تھکن اتری پر جو