جو زخم دل پہ تھا پھر سے بحال ہو گیا ہے مجھے تو لگتا تھا کہ اندمال ہو گیا ہے
جو ہوگا اس کا اندازہ نہیں ہے جو آئی ہے ہوا تازہ نہیں ہے جہاں پر قید ہونے جا رہا
مقیم حجرۂِ جاں میں خیال ہو جائے کسی طرح سے تو جاناں وصال ہو جائے کیا ہے کس لئے خلقِ
کہسار کاٹ کر نیا رستہ بناؤں گا جھرنے سمیٹ کر انہیں دریا بناؤں گا مٹی کو رکھ کے چاک پہ
سلامتی کی دعاؤں میں میرا نام بھی تھا دعائیں بانٹنے والے کا اک مقام بھی تھا وہ میرے پاس جو
بے بسی کی آخری حد ہوں گوارا کر مجھے شوخ لفظوں میں نہ یوں بالکل پکارا کر مجھے ایک
سمجھو تو ہر ایک سویرا اپنا ہے چاروں جانب گھور اندھیرا اپنا ہے ہم شعروں سے نقب لگا کر
وہ زباں کھولے تو پھر سارا جہاں بولتا ہے ورنہ اس شہر میں سچ کوئی کہاں بولتا ہے حاکمِ
در و دیوار گھر کے آبدیدہ پڑا ہے ایک لاشہ سر بریدہ اگر میں داستاں کہہ دوں زمانے تمہیں اچھے








