All غزل: حکیم محبوب زاہد

‎جو زخم دل پہ تھا پھر سے بحال ہو گیا ہے

جو ہوگا اس کا اندازہ نہیں ہے

مقیم حجرۂِ جاں میں خیال ہو جائے

کہسار کاٹ کر نیا رستہ بناؤں گا

سلامتی کی دعاؤں میں میرا نام بھی تھا

‎بے بسی کی آخری حد ہوں گوارا کر مجھے

‎سمجھو تو ہر ایک سویرا اپنا ہے

‎وہ زباں کھولے تو  پھر  سارا  جہاں بولتا ہے

در و دیوار گھر کے آبدیدہ