میری آنکھوں کو دود کر گئی ہے
عمر بھر کا قیود کر گئی ہے
ہجر آلود گفتگو تیری
ریزہ ریزہ وجود کر گئی ہے
یاد تیری ہوا کے جھونکوں میں ہے
میری سانسوں کو دُود کر گئی ہے
چاندنی رات تیرے نام کی تھی
مگر آنکھیں بے سُود کر گئی ہے
ایک پل کی نظر کی حسرت تھی
عمر بھر کی قیود کر گئی ہے
ہجر کی رات اتنی گہری تھی
چاندنی کو بے سود کر گئی ہے
ایک خوشبو تھی تیرے قرب کی جو
اب ہوا میں وجود کر گئی ہے
مزمل حسین چیمہ