گھر سے نکلی کہا سہیلی کا پھول ہم راہ تھا چنبیلی کا بالا خانے سے چیخ اٹھتی تھی اور در
غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا دفعتاً آگ سی لہرائی تھی آگے میں تھا اسی ٹیبل پہ
دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا میں کسی بو کی جلن پا کے خبردار ہوا باغ کی سمت
منظر کی اوک سے بڑی اوچھی لپک اٹھی ہم جھڑ چکے تو پیڑ کی ڈالی لچک اٹھی پانی کی پیش
وہ تو میں آگ جلانے سے میاں واقف تھا ورنہ تو اپنے قبیلے سے کہاں واقف تھا انت میں کیا
چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے اک برہمن کو مساوات سے کیا لینا ہے خاک کو خاک
اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے آ مرے دل میں اتر آنکھ سے پانی نکلے اتنی عجلت میں
جو زخم دل پہ تھا پھر سے بحال ہو گیا ہے مجھے تو لگتا تھا کہ اندمال ہو گیا ہے
جو ہوگا اس کا اندازہ نہیں ہے جو آئی ہے ہوا تازہ نہیں ہے جہاں پر قید ہونے جا رہا
مقیم حجرۂِ جاں میں خیال ہو جائے کسی طرح سے تو جاناں وصال ہو جائے کیا ہے کس لئے خلقِ









