All غزلیں

غزلیں

گھر سے نکلی کہا سہیلی کا

غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا

غزلیں

دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا

منظر کی اوک سے بڑی اوچھی لپک اٹھی

غزلیں

وہ تو میں آگ جلانے سے میاں واقف تھا

غزلیں

چھوڑیئے آپ کا اس بات سے کیا لینا ہے

غزلیں

اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے

‎جو زخم دل پہ تھا پھر سے بحال ہو گیا ہے

جو ہوگا اس کا اندازہ نہیں ہے

مقیم حجرۂِ جاں میں خیال ہو جائے