ترے بغیر مجھے جینے کا مزہ ہی نہیں
کہ میرے دل میں بچھڑنے کا حوصلہ ہی نہیں
تمہارا ہونا سمندر کے پار ہونا ہے
تمہاری طرف تو جانے کو راستا ہی نہیں
تمہارے جیسی ملاقات کو میں ترس گیا
تمہارے جیسا کہیں بھی مجھے ملا ہی نہیں
جواب کی میں رکھوں کیا کسی سے امیدیں
مرا سوال کسی پر ابھی کھلا ہی نہیں
وفا کی باتیں تمہیں زیب دیتی ہی نہیں ہیں
تمہارے نسب میں تو ایسا سلسلہ ہی نہیں
وجود حسن سے جس کو سکوں نہیں ملتا
ہوس زدہ ہے محبت میں مبتلا ہی نہیں
تمہیں ستاتا ہے ڈر تیسرے کے ہونے کا
ارے ہماری کہانی میں دوسرا ہی نہیں
ہر اک زباں پہ بچھڑنے کا قصہ ہے کسی کا
کسی کا ہجر غزل کوئی واقعہ ہی نہیں
مزمل حسین چیمہ