خواب کے رنگ میں پوشیدہ حقیقت ہے کوئی
تیری آنکھوں میں چھپی میری محبت ہے کوئی
تیرا چہرہ مرے خوابوں میں یوں ہی آیا نہیں
تیرے چہرے سے مری روح کی نسبت ہے کوئی
دل کی وادی میں ہے پرنور تجلی کی لہر
میری آنکھوں کے چراغوں میں عبادت ہے کوئی
میں جو غم دیکھ کے ہنستا ہوں زمانے کے لئے
کہ ہنسی میں بھی چھپا دردِ قیامت ہے کوئی
چاندنی رات کے دامن میں جو ہے حُسن کا نور
میرے اشعار میں اس نور کی صورت ہے کوئی
خواب کی بزم میں کیوں آج اجالا ہے عجب
اس اندھیرے کے پسِ پردہ بشارت ہے کوئی
طور پر جلوۂ حق دیکھنے والا موسیٰ
دلِ انساں میں بھی ویسی ہی بصارت ہے کوئی
وقت کے زخم بھی بن جاتے ہیں مرہم آخر
کرب کی اس گھڑی میں ایسی سہولت ہے کوئی
شوق منزل کو اگر جان سے بڑھ کر چاہا
یہ مزملؔ کی حقیقت کی علامت ہے کوئی
مزمل حسین چیمہ