در و دیوار گھر کے آبدیدہ
پڑا ہے ایک لاشہ سر بریدہ
اگر میں داستاں کہہ دوں زمانے
تمہیں اچھے ملیں گے چیدہ چیدہ
کسے احوالِ دل جا کر سنائیں
کہاں جائیں ترے فرقت گزیدہ
عجب لگتا ہے جب ہر سُو ہو دولت
بھری بستی میں اک دامن دریدہ
اٹھا ہے شور ہر سُو العَطش کا
جسے دیکھو وہی ہے آبدیدہ
مرا شاعر قلم کو توڑ دے گا
نہیں لکھے گا حاکم کا قصیدہ
میں سچا ہوں ترے زنداں سے ڈر کر
کبھی ہوگا نہ میرا سر خمیدہ
ابھی مجھ سے تعلق مت بناؤ
ابھی حالات ہیں میرے کشیدہ
مقابل اس لئے آیا ہے زاہد
تجھے آیا نظر میں سِن رسیدہ
حکیم محبوب زاہد