تو ہوش میں ہے ، کسی طور بدحواس نہیں اداس لڑکی! تری آنکھیں تو اداس نہیں تمہارے جسم پہ یہ
دلِ دیوانہ کو بازار بنانے والے ہم تری راہ کو گلزار بنانے والے پانی میں آگ لگا دیں گے ضرورت
میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا یقین کر کہ یقیں اب رہا نہیں تیرا کسی بھی دل کو سلامت
یہ جو تمہاری محبت سے خوف آتا ہے مجھے ضرور ضرورت سے خوف آتا ہے سنا ہے حشر میں بھی
اس حوالے سے اسے پند شکیبائی ہو تیرے زخموں کی میاں اتنی تو گہرائی ہو کیسے پھر مجھ کو خیال




