سلامتی کی دعاؤں میں میرا نام بھی تھا
دعائیں بانٹنے والے کا اک مقام بھی تھا
وہ میرے پاس جو بیٹھا تھا خامشی اوڑھے
عجیب بات ہے وہ شخص ہم کلام بھی تھا
جہاں پہ بادہ کشی پر یقینی قدغن تھی
وہاں پہ آنکھ سے پینے کا اہتمام بھی تھا
وہ شخص جس سے مجھے حد سے بڑھ کے نفرت تھی
اگرچہ دل میں مرے اس کا احترام بھی تھا
وہ جس خیال کو پختہ سمجھ رہا تھا میں
اسی کو بعد میں پرکھا گیا تو خام بھی تھا
حیاتِ سنتے تھے ہے مختصر مگر گزری
تو میں نے جانا کہ اس کو بہت دوام بھی تھا
جو مجھ کو چھوڑ کے رستے میں بڑھ گیا زاہد
کہ اس کو علم تھا منزل کا تیز گام بھی تھا
حکیم محبوب زاہد