دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے یہی تعلقِ دیرینہ ہے طبیعت سے ہر ایک کو جو جتانے لگے
عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں میں کہ حیراں ہوں کہ حیران ہو سکتا ہوں میں خود شناسی
باوجود اس کے یہ جہاد نہیں عشق کو عشق کہہ فساد نہیں بس تمہیں چومنا لطافت ہے چومنے میں کوئی
خواب کے رنگ میں پوشیدہ حقیقت ہے کوئی تیری آنکھوں میں چھپی میری محبت ہے کوئی تیرا چہرہ مرے خوابوں
میری آنکھوں کو دود کر گئی ہے عمر بھر کا قیود کر گئی ہے ہجر آلود گفتگو تیری ریزہ ریزہ
ترے بغیر مجھے جینے کا مزہ ہی نہیں کہ میرے دل میں بچھڑنے کا حوصلہ ہی نہیں تمہارا ہونا سمندر
تو ہوش میں ہے ، کسی طور بدحواس نہیں اداس لڑکی! تری آنکھیں تو اداس نہیں تمہارے جسم پہ یہ
دلِ دیوانہ کو بازار بنانے والے ہم تری راہ کو گلزار بنانے والے پانی میں آگ لگا دیں گے ضرورت
دنیا میں بیماریاں دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جن کے علاج کے لیے ڈاکٹر اور ہسپتال بنائے گئے
میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا یقین کر کہ یقیں اب رہا نہیں تیرا کسی بھی دل کو سلامت









