نبی کریم ﷺ اور لفظ ”اُمّی“ — ایک قرآنی، علمی اور فکری مطالعہ اسلامی فکر کی تاریخ میں بعض الفاظ
دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے یہی تعلقِ دیرینہ ہے طبیعت سے ہر ایک کو جو جتانے لگے
عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں میں کہ حیراں ہوں کہ حیران ہو سکتا ہوں میں خود شناسی
باوجود اس کے یہ جہاد نہیں عشق کو عشق کہہ فساد نہیں بس تمہیں چومنا لطافت ہے چومنے میں کوئی
اُچ شریف کے خواب واقعی اُچّے ہیں، اس قدر اُچّے کہ بعض اوقات خود اُچ شریف بھی اُنہیں دیکھ کر
کہاں فرقت میں جینے کا قرینہ ہے اسے کہنا بھنور میں میری خواہش کا سفینہ ہے اسے کہنا ہماری سمت
وہ ایک شخص جو لوٹا نہیں ابھی تک بھی مگر وہ دل سے بھلایا نہیں ابھی تک بھی جو ایک
علماء کا اصل مقام صرف عبادات کی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ قرآن کے مطابق وہ معاشرے میں عدل کے
قرآن مجید میں وحدتِ امت صرف ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو
توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔اللہ کی وحدانیت کا ماننا صرف زبانی اقرار نہیں،بلکہ









