دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے
یہی تعلقِ دیرینہ ہے طبیعت سے
ہر ایک کو جو جتانے لگے ہیں سجدے ہم
مراد یہ ہے کہ انکاری ہیں عبادت سے
ہم اپنے آپ سے ملنے کو دربدر ٹھہرے
ہمارا رشتہ رہا عمر بھر مسافت سے
نہ فلسفہ، نہ دلیلیں، نہ کارگر کوئی وعظ
جو بات بن گئی آخر تری شرارت سے
کبھی یہ وہم کہ سب کچھ اسی کا پرتو ہے
کبھی یہ خوف کہ رشتہ نہیں حقیقت سے
ہمارے کفر میں شامل تھی ایک شوخی بھی
کہ انحراف کیا شوق سے عبادت سے
ہم اہلِ درد تھے، بازارِ ضبط میں آئے
یہ سودا کر نہ سکے ہم کسی رعایت سے
یہ کس نے رکھ دیا آئینہ سامنے میرے
میں شرم سار ہوا اپنی ہی شباہت سے
ہم اپنے جرم پہ شرمندہ بھی نہیں ہیں غزل
کہ جرم عشق ہوا تھا بڑی صداقت سے









