علماء کا اصل مقام صرف عبادات کی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ قرآن کے مطابق وہ معاشرے میں عدل کے قیام کے ذمہ دار بھی ہیں۔ عدلِ اجتماعی وہ ستون ہے جس پر انسانی معاشرہ قائم رہتا ہے، اور جب یہ ستون کمزور پڑ جائے تو عبادات، اخلاق اور تہذیب سب کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ قرآن نے عدل کو اللہ کی صفت اور بندوں کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا ہے، اور اہلِ علم کو اس ذمہ داری میں سب سے آگے رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہلِ علم بھی، کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔”
(سورۃ آل عمران: 18)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اہلِ علم کی گواہی اللہ کی وحدانیت کے ساتھ عدل پر قائم ہونے کی گواہی ہے۔ یعنی عالم وہی ہے جو توحید کے ساتھ انصاف کا علمبردار ہو۔ اگر علم عدل سے جدا ہو جائے تو وہ محض معلومات رہ جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا۔
قرآن میں عدلِ اجتماعی کا تصور فرد سے شروع ہو کر پورے معاشرے تک پھیلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ وہ خود تمہارے خلاف ہو یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف۔”
(سورۃ النساء: 135)
یہ آیت بتاتی ہے کہ عدل کسی جماعت، خاندان یا مفاد کا تابع نہیں۔ علماء پر لازم ہے کہ وہ اس اصول کو معاشرے میں زندہ رکھیں، کیونکہ اگر حق بات رشتہ، مسلک یا اقتدار کی بنیاد پر بدلنے لگے تو یہی ناانصافی سب سے بڑی برائی بن جاتی ہے۔
قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدلِ اجتماعی صرف عدالتوں یا حکمرانوں کا کام نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی اصلاح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے اور قرابت داروں کو دینے کا، اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 90)
یہ آیت پورے سماجی نظام کا خلاصہ ہے۔ علماء کا فرض ہے کہ وہ عدل کو محض قانونی اصطلاح کے بجائے معاشرتی قدر کے طور پر پیش کریں، تاکہ بازار، گھر، مدرسہ اور منبر سب انصاف کے تابع ہو جائیں۔
قرآن نے ان قوموں کو ہلاک شدہ قرار دیا ہے جہاں اہلِ علم نے ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ فرمایا:
“تم میں سے پہلے لوگوں میں ایسے سمجھ دار کیوں نہ تھے جو زمین میں فساد سے روکتے؟ مگر بہت تھوڑے لوگ جنہیں ہم نے بچا لیا۔”
(سورۃ ہود: 116)
یہ آیت بتاتی ہے کہ معاشروں کی تباہی کا اصل سبب ظلم کا ہونا نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف خاموشی ہے۔ علماء اگر عدلِ اجتماعی کے باب میں خاموش ہو جائیں تو قرآن کی نگاہ میں وہ امت کی حفاظت کا حق ادا نہیں کرتے۔
عدلِ اجتماعی کا ایک بڑا پہلو معاشی انصاف ہے۔ قرآن اہلِ علم کو متنبہ کرتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹ نہ جائے۔ فرمایا:
“تاکہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔”
(سورۃ الحشر: 7)
یہ اعلان صرف معیشت نہیں بلکہ عدلِ اجتماعی کا اصول ہے۔ علماء پر لازم ہے کہ وہ معاشرتی نابرابری، استحصال اور ظلم کو دینی مسئلہ سمجھ کر بیان کریں، کیونکہ قرآن ان سب کو عدل کے خلاف قرار دیتا ہے۔
قرآن ظلم کو صرف اخلاقی برائی نہیں بلکہ اجتماعی تباہی کا سبب بتاتا ہے:
“اور یہ بستیاں ہم نے اس وقت ہلاک کر دیں جب انہوں نے ظلم کیا۔”
(سورۃ الکہف: 59)
یہ آیت تاریخ کا وہ قانون بیان کرتی ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ علماء اگر معاشرے کو اس قرآنی قانون سے آگاہ نہ کریں تو وہ تاریخ کے اندھے پن میں مبتلا رہتا ہے۔
عدلِ اجتماعی کے قیام میں علماء کا سب سے بڑا امتحان طاقت کے مراکز کے سامنے حق گوئی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
“جو لوگ اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔”
(سورۃ الاحزاب: 39)
یہ وصف ان علماء کا ہے جو عدل کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، چاہے اس کی قیمت انہیں سماجی مخالفت یا دنیاوی نقصان کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ قرآن کے نزدیک یہی علماء اصل رہنما ہیں۔
قرآن عدل کو قیامت کے حساب سے جوڑتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھے کہ ظلم بے حساب ہے:
“اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے، پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔”
(سورۃ الانبیاء: 47)
یہ آیت علماء کو یاد دلاتی ہے کہ ان کا ہر قول، ہر خاموشی، اور ہر فیصلہ اللہ کے ترازو میں تولا جائے گا۔ عدلِ اجتماعی کی جدوجہد دراصل آخرت کی جواب دہی کا شعور ہے۔
اگر علماء معاشرے میں عدل کو زندہ رکھیں تو قرآن وعدہ کرتا ہے کہ قوم کو امن اور برکت ملتی ہے:
“اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے۔”
(سورۃ الاعراف: 96)
یہی وہ مقام ہے جہاں علم، ایمان اور عدل مل کر ایک صالح معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
علماء کا اصل منصب یہی ہے کہ وہ عدل کو محض نعرہ نہیں بلکہ زندگی کا معیار بنائیں۔ جب عالم عدل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو وہ امت کی ڈھال بن جاتا ہے، اور جب وہ خاموش ہو جائے تو معاشرہ ظلم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
خلاصہ
قرآن کے مطابق عدلِ اجتماعی ایمان کی روح ہے، اور علماء اس روح کے محافظ ہیں۔
وہ علم جو انصاف نہ سکھائے، قرآن کی نظر میں ادھورا ہے۔
اور وہ معاشرہ جہاں اہلِ علم ظلم پر خاموش ہوں، دیرپا نہیں رہتا۔
عدل کے قیام کے بغیر نہ امت کی اصلاح ممکن ہے، نہ دین کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔









