کہاں فرقت میں جینے کا قرینہ ہے اسے کہنا
بھنور میں میری خواہش کا سفینہ ہے اسے کہنا
ہماری سمت لوٹ آئے ہمارے پاس آ جائے
دسمبر ہی تو اک ایسا مہینہ ہے ! اسے کہنا
تری یادوں میں روتا ہوں لپٹ کر اپنے تکیے سے
بہت بیتاب فرقت میں یہ سینہ ہے اسے کہنا
ترا ہر ظلم سہ لوں گا یہ وعدہ ہے مرا تجھ سے
نہ دل میں بغض ہے میرے نہ کینہ ہے اسے کہنا
کہیں ایسا نہ ہو یہ ٹوٹ جائے ایک لمحے میں
وجودِ شاعرِ جاں آبگینہ ہے اسے کہنا
تجھے میں ڈھونڈتا پھرتاہوں اب بھی سرد راتوں میں
مگر ماتھے پہ حسرت کا پسینہ ہے اسے کہنا
شعیب الحسن بوسال









