اُچ شریف کے خواب واقعی اُچّے ہیں، اس قدر اُچّے کہ بعض اوقات خود اُچ شریف بھی اُنہیں دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔ یہ وہ خواب ہیں جو زمین پر سوتے ہیں مگر جاگتے آسمانوں میں ہیں۔ یہاں کے لوگ مٹی پر بیٹھ کر چاند کی بات کرتے ہیں اور کھجور کے درخت کے سائے میں بیٹھ کر عالمی سیاست پر رائے دیتے ہیں، وہ بھی اس اعتماد کے ساتھ جیسے اقوامِ متحدہ کا اجلاس ابھی ملتوی کر کے انہی کے حجرے میں منتقل ہونے والا ہو۔
اُچ شریف وہ واحد مقام ہے جہاں ماضی اتنا زندہ ہے کہ حال بیچارہ اکثر شرمندہ ہو جاتا ہے۔ یہاں بزرگ اتنے بزرگ ہیں کہ تاریخ ان کے سامنے مؤدب کھڑی رہتی ہے اور نوجوان اتنے پرانے خیالات کے مالک ہیں کہ جدیدیت بھی آ کر سلام کرتی ہے۔ اگر آپ کسی نوجوان سے پوچھیں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ جواب دے گا، “ابھی تو کچھ نہیں، لیکن خواب بہت بڑے ہیں۔” اور جب آپ خوابوں کی نوعیت پوچھیں تو وہ نظریں آسمان کی طرف کر کے کہے گا، “بس اللہ مالک ہے۔”
یہاں خواب دیکھنے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے خواب ولایت کے ہوتے تھے، اب ویزے کے ہوتے ہیں۔ پہلے لوگ مکاشفے میں مدینہ دیکھتے تھے، اب واٹس ایپ اسٹیٹس میں دبئی۔ اُچ شریف کے خوابوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی پورے نہیں ہوتے، مگر مرتے بھی نہیں۔ یہ وہ خواب ہیں جو فائلوں کی طرح ایک الماری سے دوسری الماری میں منتقل ہوتے رہتے ہیں، اور ہر نسل ان پر اپنی دھول الگ انداز میں جماتی ہے۔
اُچ شریف میں تعلیم کو بہت عزت دی جاتی ہے، خاص طور پر اُس تعلیم کو جو کبھی مکمل نہ ہوئی ہو۔ یہاں آدھے پڑھے لوگ پورے فلسفی ہوتے ہیں اور پورے پڑھے لوگ اکثر خاموش رہتے ہیں، تاکہ کہیں یہ نہ کہا جائے کہ زیادہ پڑھنے سے عقل کم ہو جاتی ہے۔ ایک صاحب نے ایم اے کیا تو پورا محلہ پریشان ہو گیا کہ اب یہ بندہ سوال بھی انگریزی میں پوچھے گا۔ چنانچہ اجتماعی دعا کرائی گئی کہ اللہ اسے دوبارہ پنجابی بنا دے۔
یہاں کے خوابوں میں سرکاری نوکری کا کردار وہی ہے جو پرانے ڈراموں میں سوتیلی ماں کا ہوتا تھا: سب کو چاہیے، کسی کو ملتی نہیں، اور اگر مل جائے تو باقی سب اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اُچ شریف میں سرکاری ملازم وہ واحد انسان ہے جسے لوگ عزت بھی دیتے ہیں اور رشوت کی توقع بھی رکھتے ہیں، اور اگر وہ رشوت نہ لے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ بندہ ٹھیک نہیں ہے، شاید بیمار ہے۔
اُچ شریف کے خوابوں میں سیاست کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ یہاں ہر دوسرا آدمی سیاست دان ہے، اور ہر تیسرا سابقہ وزیر۔ فرق صرف یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کا مرحلہ ہمیشہ “ان شاء اللہ اگلی بار” پر آ کر رک جاتا ہے۔ یہاں الیکشن ہارنے کے بعد بھی لوگ خود کو “عوامی لیڈر” ہی کہتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے فیل ہونے کے بعد بھی ہم خود کو “طالب علم” کہتے ہیں۔
اُچ شریف کے خوابوں کا ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک سے متعلق ہے۔ یہاں ہر نوجوان یا تو باہر جانے کی تیاری میں ہے یا واپس آ کر بتا رہا ہے کہ وہاں جانا اصل میں کتنا برا ہے، حالانکہ واپس آتے وقت اس کا سامان تین سوٹ کیسوں پر مشتمل ہوتا ہے اور لہجہ لندن کے موسم جیسا۔ باہر جا کر سب کو احساس ہوتا ہے کہ اصل سکون تو اُچ شریف کی گلی میں تھا، مگر یہ احساس صرف چھٹیوں تک محدود رہتا ہے۔
یہاں محبت کے خواب بھی بڑے معصوم ہیں۔ عشق اُچ شریف میں آج بھی بدنام ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بدنامی کے تمام قصے عاشقوں ہی نے پھیلائے ہوتے ہیں۔ یہاں محبت کرنے والا سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ لڑکی کے گھر والے کتنے خواب دیکھتے ہیں، کیونکہ اُچ شریف میں شادی دو افراد کا نہیں بلکہ دو خوابوں کا معاہدہ ہوتی ہے، جس میں جہیز کم اور توقعات زیادہ ہوتی ہیں۔
اُچ شریف کے خوابوں میں مذہب بہت مضبوط عنصر ہے، مگر وہ مذہب جو برداشت کے ساتھ ہو۔ یہاں فرقہ واریت کم اور فرقہ شناسی زیادہ ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ کون کیا ہے، مگر اس علم کو فساد کے بجائے گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہر شخص دوسرے کے عقیدے میں اصلاح کو اپنا دینی فرض سمجھتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب چائے تیار ہو۔
اُچ شریف کے خوابوں کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں ناکامی کو بھی عزت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص کچھ نہ بن سکے تو کہا جاتا ہے، “کوئی بات نہیں، نیت تو اچھی تھی۔” اور اگر کوئی بہت کچھ بن جائے تو فوراً سوال ہوتا ہے، “کہیں اس نے کوئی شارٹ کٹ تو نہیں لیا؟” اس توازن نے اُچ شریف کو نفسیاتی طور پر بہت مستحکم رکھا ہے، یہاں کوئی زیادہ خوش ہے نہ زیادہ اداس، سب معتدل درجے کے مطمئن ہیں۔
یہاں خواب دیکھنے کے لیے نیند شرط نہیں۔ لوگ جاگتے ہوئے خواب دیکھتے ہیں، چائے کی پیالی میں مستقبل پڑھتے ہیں، اور اخبار کے اشتہار میں اپنی تقدیر تلاش کرتے ہیں۔ اُچ شریف میں اگر کسی دن خواب ختم ہو جائیں تو شاید لوگ جاگنا ہی چھوڑ دیں، کیونکہ یہاں خواب زندگی کی آکسیجن ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اُچ شریف کے خواب اگر کبھی پورے ہو گئے تو شاید اُچ شریف ہی نہ رہے۔ کیونکہ اس شہر کی اصل خوبصورتی اس کے خوابوں میں نہیں، بلکہ اُن خوابوں کے تعاقب میں ہے جو کبھی ہاتھ نہیں آتے مگر دل کو مصروف رکھتے ہیں۔ اور شاید یہی مصروفیت انسان کو زندہ رکھتی ہے، ورنہ حقیقت تو ویسے بھی بڑی بے رحم چیز ہے۔
تحریر: مزمل حسین چیمہ بوسال

