لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے اور ہم سٹپٹا رہے ہوں گے تم بغاوت کی بات کرتے ہو ہم
کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا گلہ بنتا ہے اب بے کار اپنا پس پردہ بہت بے پردگی ہے
دل درویش کی دعا سے اٹھا یہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھا جسم الجھا مگر تھکن اتری پر جو
ہے تلخ تر حیات اس شراب سے تو عشق ہار دے گا اجتناب سے کہانیاں دہک رہی ہیں رات کی
وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے دین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہے کیسی آواز ہے
کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی دم نہ لے پائے گا یہاں دم بھی کار بے کار کا اثاثہ
اس نے بھی خود کو بے کنار کیا جس کا ساحل نے انتظار کیا آئنے میں سلگ رہا تھا لہو
جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں وہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میں وہ رات میری
شکستہ گھر ہے دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیں پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو
خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے گو ترے شہر میں جا کر کے بھی پیاسے آئے اس









