باوجود اس کے یہ جہاد نہیں
عشق کو عشق کہہ فساد نہیں
بس تمہیں چومنا لطافت ہے
چومنے میں کوئی سُواد نہیں
اپنے مقصد لیے اٹھائے ہو
قتل و غارت ہے یہ ، جہاد نہیں
لوگ جا سکتے ہیں پلٹ کر یہ
قافلے میں کوئی زیاد نہیں
چل رہا ہوں میں جو تمہارے ساتھ
میرا اس میں کوئی مفاد نہیں
یاد آنے لگا ہے کیوں وہ نام؟
جس کی صورت بھی مجھ کو یاد نہیں
حسن سے یہ مخالفت ہے جو
کسی صورت غزلؔ عناد نہیں
مزمل حسین چیمہ









