وہ ایک شخص جو لوٹا نہیں ابھی تک بھی
مگر وہ دل سے بھلایا نہیں ابھی تک بھی
جو ایک عمر ہوئی رکھ گیا تھا تکیے پر
وہ ایک پھول کہ سوکھا نہیں ابھی تک بھی
چراغ لے کے میں گھر سے نکل تو آیا ہوں
کہاں جلاؤں گا سوچا نہیں ابھی تک بھی
ہزار بار مجھے جس نے آزمایا ہے
کسی طرح اسے پرکھا نہیں ابھی تک بھی
یہ میرے ضبط کا معیار ہے اے دوست مرے
کہ آنکھ بھر کے میں رویا نہیں ابھی تک بھی
وہ میرے نام سے منسوب ہو گیا لیکن
ہوا کے رخ کو تو دیکھا نہیں ابھی تک بھی
میں اس کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں در بدر اعظم
میں اپنے شہر کو لوٹا نہیں ابھی تک بھی
اعظم شاہد ، منڈی بہاءالدین









