نبی کریم ﷺ اور لفظ ”اُمّی“ — ایک قرآنی، علمی اور فکری مطالعہ
اسلامی فکر کی تاریخ میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو بظاہر سادہ اور عام فہم محسوس ہوتے ہیں، لیکن جب ان پر سنجیدہ علمی نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پورے ایک فکری نظام کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ لفظ ”اُمّی“ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ قرآنِ مجید نے یہ لفظ نبی کریم ﷺ کے لیے استعمال کیا، اور صدیوں سے عام مذہبی بیانیے میں اس کا ترجمہ اور مفہوم ”ان پڑھ“ کے طور پر رائج ہو گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا قرآن جیسی دقیق، بلیغ اور فکری طور پر مربوط کتاب میں کسی لفظ کا مفہوم صرف لغت کے ایک ممکنہ معنی تک محدود کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر یہ ضروری ہے کہ ہم اس لفظ کو قرآن کے مجموعی اسلوب، اس کے داخلی نظامِ اصطلاحات، اور اس کے تاریخی و دینی سیاق میں سمجھیں؟
یہ حقیقت مسلم ہے کہ قرآن محض لغت کی کتاب نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی دستاویز ہے۔ اس کے الفاظ صرف معنی نہیں رکھتے بلکہ پس منظر، تقابل، تاریخ اور مقصد بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ لفظ ”اُمّی“ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ قرآن اسے کن مواقع پر، کن لوگوں کے لیے، اور کن لوگوں کے مقابل استعمال کرتا ہے۔ اگر ہم قرآن کے تمام مقامات کو جمع کریں جہاں یہ لفظ آیا ہے تو ایک نہایت واضح حقیقت سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ قرآن میں ”اُمّی“ کا استعمال بنیادی طور پر ایک دینی و تاریخی شناخت کے طور پر ہوا ہے، نہ کہ محض ایک تعلیمی یا فنی کمزوری کے اظہار کے طور پر۔
قرآن مجید میں جہاں بھی ”اُمّی“ یا ”اُمّیین“ کا لفظ آیا ہے، وہاں اس کے مقابلے میں عموماً ”الذین اوتوا الکتاب“ یعنی اہلِ کتاب کا ذکر موجود ہے۔ یہ تقابل بذاتِ خود فیصلہ کن ہے۔ اہلِ کتاب سے مراد وہ اقوام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ آسمانی کتاب دی گئی، جیسے بنی اسرائیل جنہیں تورات اور پھر انجیل عطا ہوئی۔ ان کے مقابل جو اقوام تھیں، خصوصاً عرب، ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب موجود نہ تھی۔ یہی وہ تاریخی اور دینی حقیقت ہے جسے قرآن لفظ ”اُمّی“ کے ذریعے بیان کرتا ہے۔
سورۂ آل عمران میں جب کہا جاتا ہے: ”اور کہہ دیجیے اہلِ کتاب سے اور اُمّیوں سے“ تو یہاں یہ تصور کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے کہ ایک طرف پڑھے لکھے لوگ ہوں اور دوسری طرف ان پڑھ۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں بھی بے شمار لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، اور عربوں میں بھی ایسے افراد موجود تھے جو تحریر سے واقف تھے۔ پس یہ تقسیم خواندگی کی نہیں بلکہ وحی اور کتاب کی نسبت کی ہے۔ اُمّی وہ ہیں جو کسی سابقہ الہامی کتاب کے حامل نہیں، اور اہلِ کتاب وہ ہیں جو اس نسبت کے حامل ہیں۔
یہی مفہوم سورۂ جمعہ میں نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے اُمّیوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اگر اُمّی کا مطلب ان پڑھ لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ نے ان پڑھوں میں ایک رسول بھیجا، جو نہ صرف اس آیت کے اسلوب سے بعید ہے بلکہ قرآن کے عمومی مقصد سے بھی متصادم ہے۔ قرآن دراصل یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس قوم کے پاس نہ کوئی آسمانی کتاب تھی، نہ کوئی منظم دینی روایت، اسی قوم کے اندر سے اللہ نے ایک رسول مبعوث کیا جو اب انہیں کتاب اور حکمت سکھائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسی آیت میں آگے فرمایا گیا کہ وہ انہیں کتاب کی تلاوت کرتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ جو خود معلمِ کتاب ہو، اسے محض ”ان پڑھ“ کہہ دینا علمی اعتبار سے ایک سطحی بات بن جاتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ قرآن نے کہیں بھی نبی کریم ﷺ کے لیے جہالت یا لاعلمی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس کے برعکس، آپ ﷺ کو ”معلّم“، ”مبشّر“، ”نذیر“ اور ”حکمت“ کا حامل قرار دیا گیا۔ سورۂ عنکبوت میں یہ ضرور فرمایا گیا کہ آپ ﷺ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، مگر اس کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنی نبوت سے قبل کسی مکتبۂ فکر یا کتابی روایت سے تعلیم حاصل نہیں کی، تاکہ وحی کی صداقت میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ یہ نفیِ ذریعہ ہے، نفیِ صلاحیت نہیں۔ یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ آپ ﷺ پڑھنے یا سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ کہا گیا کہ آپ ﷺ کا علم کسی انسانی تعلیمی نظام کا مرہونِ منت نہیں تھا۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ”نبی ﷺ ان پڑھ تھے“ کا بیانیہ پیدا ہوا۔ بعض مفسرین نے، خلوصِ نیت کے ساتھ، اس مفہوم کو معجزۂ نبوت کے طور پر پیش کیا کہ ایک ان پڑھ شخص اتنی عظیم کتاب کیسے پیش کر سکتا ہے۔ اگرچہ نیت قابلِ احترام ہے، مگر علمی سطح پر یہ استدلال کمزور ہے، کیونکہ یہ قرآن کے اپنے اسلوب اور اصطلاحی نظام سے ہم آہنگ نہیں۔ قرآن کبھی بھی نبی ﷺ کی عظمت کو علمی کمی کے ذریعے ثابت نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ علمی کمال کے ذریعے واضح کرتا ہے۔
اہلِ کتاب کے علماء کے بارے میں قرآن خود کہتا ہے کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو کتاب کو صحیح طور پر نہیں جانتے تھے، حالانکہ وہ پڑھنے لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ سورۂ بقرہ میں یہودیوں کے ایک طبقے کو ”اُمّی“ کہا گیا، حالانکہ وہ نسلی طور پر اہلِ کتاب تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ”اُمّی“ کا تعلق خواندگی سے نہیں بلکہ علمِ کتاب سے ہے۔ یعنی جو الہامی کتاب کی معرفت سے محروم ہو، وہ قرآن کی اصطلاح میں اُمّی ہے، چاہے وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔
نبی کریم ﷺ کے لیے لفظ ”اُمّی“ کا استعمال دراصل ایک عظیم الشان اعلان ہے۔ یہ اعلان ہے کہ آپ ﷺ کسی سابقہ شریعت کے سائے میں کھڑے نہیں، کسی پچھلی کتاب کے شارح نہیں، بلکہ براہِ راست وحی کے حامل اور ایک نئی عالمی ہدایت کے پیامبر ہیں۔ آپ ﷺ نہ یہودی شریعت کے تابع تھے، نہ عیسائی روایت کے، بلکہ ایک ایسے نبی تھے جنہیں اللہ نے ایک اُمّی قوم میں مبعوث کیا تاکہ وہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا مرکز بنے۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ کتاب آپ ﷺ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ اگر ”اُمّی“ کا مطلب محض ان پڑھ ہوتا تو یہ پہچان ممکن نہ ہوتی۔ درحقیقت تورات و انجیل میں جس نبی کی بشارت دی گئی تھی، اس کی ایک نمایاں علامت یہی تھی کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل میں سے ہوگا، یعنی ایک اُمّی قوم میں سے۔ اس پس منظر میں ”النبی الاُمّی“ ایک عظیم اعزاز ہے، نہ کہ کوئی کمی۔
آخرکار یہ بات کہنا علمی دیانت کے زیادہ قریب ہے کہ لفظ ”اُمّی“ نبی کریم ﷺ کی علمی عظمت کو گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ بڑھانے کے لیے آیا ہے۔ یہ لفظ اس حقیقت کی علامت ہے کہ آپ ﷺ کا علم نہ مکتب کا محتاج تھا، نہ کتاب کا، بلکہ براہِ راست ربّ العالمین کی طرف سے عطا کردہ تھا۔ آپ ﷺ وہ معلم ہیں جنہوں نے اُمّی قوم کو علم کی اُمت بنا دیا، جن کے شاگردوں نے دنیا کو علم، قانون، فلسفہ اور اخلاق کے نئے معیار دیے۔
چنانچہ اگر ہم قرآن کو خود قرآن کی روشنی میں سمجھیں تو یہ نتیجہ ناگزیر ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ”اُمّی“ کہنا دراصل ان کی نبوت کی عالمگیریت، ان کی وحی کی خود کفالت، اور ان کے علم کے ربّانی سرچشمے کا اعلان ہے۔ یہ لفظ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم کی اصل بنیاد قلم نہیں، بلکہ وحی ہے، اور وحی کا سب سے کامل مظہر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
تحریر: مزمل حسین چیمہ









