عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں
میں کہ حیراں ہوں کہ حیران ہو سکتا ہوں میں
خود شناسی کی ضرورت سے یہ جانا میں نے
اپنی ہی ذات سے انجان ہو سکتا ہوں میں
ایک ہی آن میں آباد ہوں ویرانی بھی
بزم میں رہ کے بھی سنسان ہو سکتا ہوں میں
ایک ہی لمحہ سکوں، ایک ہی لمحہ بے چین
یوں بھی حالات کا مہمان ہو سکتا ہوں میں
دل کو سمجھاؤں تو ہر زخم بھی بھر سکتا ہے
ورنہ ہر یاد سے ویران ہو سکتا ہوں میں
ایک ہی بات کو سو رنگ میں دیکھوں شاید
ایک ہی لمحے میں حیران ہو سکتا ہوں میں
اپنی خواہش کو ضرورت سے اگر کم رکھوں
زیست میں تھوڑا سا آسان ہو سکتا ہوں میں
دل اگر ضد پہ اتر آئے تو کیا کیجے غزل
عقل کے ہوتے بھی نادان ہو سکتا ہوں میں
مزمل حسین چیمہ









