توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک نظامِ عدل کی بنیاد ہے۔
اللہ کی وحدانیت کا ماننا صرف زبانی اقرار نہیں،
بلکہ یہ یقین رکھنا کہ کائنات کا ہر ذرہ عدل کے توازن پر قائم ہے۔
قرآن مجید میں عدل کو اللہ کی صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے،
اور بتایا گیا کہ عدل، توحید کا لازمی تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے،
اور قرابت داروں کو دینے کا،
اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے،
وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔”
(سورۃ النحل: ۹۰، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت دراصل پورے قرآنی اخلاقی نظام کا خلاصہ ہے۔
عدل یہاں صرف قانون نہیں، بلکہ زندگی کا توازن ہے۔
اللہ کے نظام میں نہ کوئی زیادتی ہے نہ کمی،
ہر شے اپنے مقام پر قائم ہے — یہی توحید کا ظہور ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ عدل محض بندوں کا آپس کا معاملہ نہیں،
بلکہ یہ اللہ کے ربوبی نظام کا ایک جز ہے۔
اگر اللہ عادل نہ ہوتا تو کائنات ظلم سے بھر جاتی۔
فرمایا:
“اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔”
(سورۃ فصلت: ۴۶)
یہ اعلان صرف عقیدہ نہیں، یقین کا درجہ رکھتا ہے۔
اللہ کے عدل کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ہر تقدیر، ہر فیصلہ،
اور ہر آزمائش میں حکمت ہے۔
بندہ جب اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو
اس کا ایمان توحید سے مضبوط تر ہو جاتا ہے۔
قرآن عدل کو انسان کی ذمہ داری بھی قرار دیتا ہے۔
فرمایا:
“بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے سپرد کرو جن کے اہل ہیں،
اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل سے کرو،
یقیناً اللہ بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔”
(سورۃ النساء: ۵۸)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ توحید صرف عقیدہ نہیں بلکہ نظامِ زندگی ہے۔
جس نے اللہ کو واحد مانا،
اس پر لازم ہے کہ زمین پر بھی انصاف قائم کرے،
کیونکہ ظلم دراصل شرک کی عملی صورت ہے۔
قرآن ظلم کو توحید کے منافی قرار دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔”
(سورۃ البقرہ: ۲۷۰)
ظلم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے اختیار اور طاقت کو
اللہ کے قانون سے الگ سمجھنے لگتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب توحید کا یقین کمزور پڑتا ہے
اور بندہ اپنی ذات کا رب بن بیٹھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کو عدل پر قائم کیا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کی،
کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو۔”
(سورۃ الرحمن: ۷-۸)
یہ میزان صرف آسمان و زمین کے توازن کا ذکر نہیں،
بلکہ انسانی سماج، سیاست، تجارت، اور اخلاقیات کے لیے بھی
ایک ابدی اصول ہے —
کہ زندگی کا ہر گوشہ انصاف کے پیمانے پر پرکھا جائے۔
توحید ہمیں سکھاتی ہے کہ عدل صرف سزا دینے کا نام نہیں،
بلکہ ہر حق کو اس کے اصل مقام پر رکھنا ہے۔
اگر اللہ کو واحد ماننے کے باوجود
ہم بندوں کے حقوق پامال کریں،
تو ہمارا ایمان زبانی رہ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔”
(سورۃ الشعراء: ۱۸۱)
یہ چھوٹا سا حکم دراصل بڑے عدل کا مظہر ہے۔
یعنی اللہ کے نزدیک انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں،
بلکہ بازار، گھر، اور دل کے ارادوں تک پھیلا ہوا ہے۔
قرآن میں عدل کو ایمان کی علامت اور ظلم کو کفر کا ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔
فرمایا:
“اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے،
انہیں ہم ظلم نہیں کریں گے،
وہ بہشت کے وارث ہوں گے۔”
(سورۃ یونس: ۴۴)
یہاں عدل اور توحید کا باہمی تعلق واضح ہوتا ہے —
کہ ایمان والا کبھی ظلم نہیں کرتا،
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کا نظام عدل پر قائم ہے۔
آج کے دور میں انسان نے
اللہ کی حاکمیت کو نظر انداز کر کے
خود ساختہ انصاف کے پیمانے بنا لیے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم،
اور کمزور کے لیے سخت ہو گیا ہے۔
قرآن ایسے معاشرے کو
غفلت اور گمراہی میں ڈوبا ہوا قرار دیتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
“اور جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا،
وہی کافر ہیں۔”
(سورۃ المائدہ: ۴۴)
یہ آیت اس اصول کی بنیاد رکھتی ہے
کہ اگر عدل اللہ کے قانون سے ہٹ جائے تو وہ ظلم بن جاتا ہے،
اور ظلم توحید کی ضد ہے۔
عدل کا قرآنی تصور محض سزا یا جزا نہیں،
بلکہ یہ کائناتی نظم کا آئینہ ہے۔
جیسے ستارے، زمین، اور زندگی کے نظام میں توازن ہے،
ویسے ہی انسانی زندگی کو بھی توازن درکار ہے —
اور یہ توازن تبھی ممکن ہے
جب انسان اپنے فیصلوں، ارادوں اور نظاموں کو
اللہ کی مشیت کے تابع رکھے۔
قرآن بندے کو یہ احساس دلاتا ہے کہ
عدل اختیار کرنا،
اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے۔
فرمایا:
“اور انصاف کرو، بے شک انصاف پرہیزگاری کے قریب تر ہے،
اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے واقف ہے۔”
(سورۃ المائدہ: ۸)
یہی وہ مقام ہے جہاں توحید اور عدل ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
بندہ جب انصاف کرتا ہے تو دراصل
اللہ کی صفت کا عکس اپنے کردار میں ظاہر کرتا ہے۔
عدل دراصل بندگی کا عملی اظہار ہے۔
جس دل میں توحید کا نور ہے،
وہ ظلم نہیں کر سکتا،
کیونکہ اسے یقین ہے کہ ظلم
اللہ کی نافرمانی اور اس کے نظام کی توہین ہے۔
قرآن عدل کو قیامت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
فرمایا:
“اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھیں گے،
پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا،
اور اگر ذرّے برابر بھی عمل ہوگا،
ہم اسے لے آئیں گے،
اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔”
(سورۃ الانبیاء: ۴۷)
یہ آیت بتاتی ہے کہ عدل صرف دنیا کا معاملہ نہیں،
بلکہ آخرت کی بنیاد ہے۔
اللہ کا عدل ابدی ہے —
جو کسی قوم، مذہب یا طبقے کے لحاظ سے نہیں،
بلکہ نیت اور عمل کے اعتبار سے فیصلہ کرے گا۔
جب بندہ اس عدلِ الٰہی پر ایمان رکھتا ہے،
تو وہ دنیا میں انصاف قائم کرنے والا بن جاتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ کوئی طاقت، دولت یا منصب
اللہ کے انصاف سے بالاتر نہیں۔
آج کا انسان اگر توحید پر سچا یقین رکھے
تو دنیا کے بیشتر ظلم خود بخود ختم ہو جائیں۔
کیونکہ وہ سمجھے گا کہ
میرا ہر عمل ایک عادل رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔
یہی شعور اخلاق، سیاست، معیشت، اور معاشرت میں
انصاف کی روح پھونک دیتا ہے۔
قرآن نے ظلم کے انجام سے ڈرایا ہے:
“اور مت سمجھ کہ اللہ ظالموں کے کاموں سے بے خبر ہے،
وہ تو انہیں اس دن کے لیے مہلت دیتا ہے،
جب آنکھیں پتھرا جائیں گی۔”
(سورۃ ابراہیم: ۴۲)
یہ تنبیہ بتاتی ہے کہ اللہ کے عدل سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔
ظلم وقتی طور پر طاقت بن سکتا ہے،
مگر انجام میں وہ تباہی ہے۔