دنیا میں بیماریاں دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جن کے علاج کے لیے ڈاکٹر اور ہسپتال بنائے گئے ہیں، اور دوسری وہ جن کے علاج کے لیے مشاعرے اور رسالے ایجاد ہوئے ہیں۔ پہلی قسم کی بیماریاں انسان کے جسم کو متاثر کرتی ہیں، جب کہ دوسری قسم کی بیماریاں دماغ پر حملہ آور ہو کر باقی انسانوں کا سکون غارت کر دیتی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک اور دیرپا بیماری شاعری ہے۔ یہ بیماری جب کسی پر وارد ہوتی ہے تو نہ اس کی بیوی محفوظ رہتی ہے، نہ دوست احباب، اور نہ ہی دفتر کے ایڈیٹر۔
شاعری کے جراثیم بڑی معصوم صورت میں انسان کے دل میں داخل ہوتے ہیں۔ کبھی ریاضی کے پرچے میں ناکامی کے بعد، کبھی پہلی ناکام محبت کے بعد، اور اکثر بجلی جانے کے بعد۔ فرق صرف یہ ہے کہ بجلی آنے کی امید تو ہو سکتی ہے، محبت کی واپسی کی نہیں۔ مریض کو شروع میں ایک آدھ مصرعہ یاد آتا ہے۔ وہ مصرعہ اس قدر بیکار اور لچر ہوتا ہے کہ خود مریض کو بھی سمجھ نہیں آتی، مگر پھر بھی وہ اسے اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوتا ہے۔ کچھ دن بعد مصرعوں کی یہ کھانسی غزل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور پھر وہ دن آتا ہے جب مریض اپنے آپ کو غالب کا جانشین اور فیض کا نواسہ سمجھنے لگتا ہے۔
شاعر کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ زندگی کی ہر صورتحال کو مصرعے میں ڈھال دیتا ہے۔ نیند نہ آئے تو غزل، بجلی چلی جائے تو مرثیہ، اور پیٹ خراب ہو جائے تو قطعہ۔ ہم نے ایسے شاعر بھی دیکھے ہیں جنہوں نے ڈاک خانے کی قطار پر مسدس اور میونسپل کمیٹی کے نالوں پر مثنوی لکھ ڈالی۔ شاعر کی قوتِ مشاہدہ اس قدر عجیب و غریب ہوتی ہے کہ وہ روتے بچے کو دیکھ کر اپنی محرومی یاد کرتا ہے اور خوش باش نوجوان کو دیکھ کر اپنی ناکامی۔ غرض دنیا کا ہر منظر اسے اپنی بربادی کی یاد دلاتا ہے۔
یہ مرض جب گھریلو سطح پر پھیلتا ہے تو سب سے زیادہ متاثر بیوی اور بچے ہوتے ہیں۔ شاعر کھانے کے دوران اچانک چمچ چھوڑ کر دیوار پر مصرعہ لکھنے لگتا ہے۔ اگر کاغذ نہ ملے تو قمیض پر، اور اگر قمیض بھی نہ ملے تو میز کے شیشے پر۔ پھر وہ قمیض دھونے سے انکار کر دیتا ہے کہ اس پر ’’شاہکار‘‘ رقم ہے۔ شاعر کی بیوی جب کبھی حساب مانگے تو شاعر کہتا ہے: ’’اس پر بھی ایک نظم لکھ رہا ہوں۔‘‘ بیوی جل کر بولے: ’’پہلے بجلی کا بل تو ادا کر دو، پھر نظم کا بل دینا۔‘‘ بچے بھی شاعر باپ سے تنگ رہتے ہیں۔ سکول میں فیس نہ جائے تو استاد ڈانٹتے ہیں: ’’تمہارے ابا کیا کرتے ہیں؟‘‘ اور بچہ سہم کر جواب دیتا ہے: ’’جی، شاعری کرتے ہیں۔‘‘ استاد لمحہ بھر کو خاموش ہو جاتا ہے اور پھر ہمدردی سے کہتا ہے: ’’چلو، کوئی کام تو کرتے ہیں۔‘‘
دوست احباب کی حالت بھی مختلف نہیں ہوتی۔ شاعر کے ساتھ بیٹھ کر ہر کوئی جملہ تول تول کر بولتا ہے۔ ڈر یہ رہتا ہے کہ کہیں ان کی باتوں پر بھی کوئی شعر نہ گھڑ دیا جائے۔ اکثر دوست ملاقات کے بعد اپنے جملے دوبارہ دہرا کر دیکھتے ہیں کہ ان میں کہیں قافیہ یا ردیف کا امکان تو نہیں۔ شاعر کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے نقصانات میں یہ بھی شامل ہے کہ محفل میں اس کی غزل سننی پڑتی ہے۔ داد نہ دی جائے تو شاعر کا دل ٹوٹ جاتا ہے، اور داد دی جائے تو باقی لوگوں کا۔
شاعر کی سب سے بڑی حسرت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اشعار کسی اخبار یا رسالے میں چھپ جائیں۔ پہلا تجربہ شاعر کے لیے کسی ماں کی پہلی زچگی سے کم نہیں ہوتا۔ شاعر جب اپنی غزل لفافے میں بند کر کے دفترِ ادارت کو بھیجتا ہے تو ایسے خوش ہوتا ہے جیسے اپنی پہلی اولاد کسی نرسری میں داخل کروا رہا ہو۔ اور جب جواب میں غزل شائع ہو جائے تو شاعر کی شان دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ وہ ہر راہ چلتے کو غزل دکھاتا ہے، جیسے عام لوگ بچے کی پہلی تصویر دکھاتے ہیں۔ اس کے چہرے پر وہی غرور جھلکتا ہے جو نئے دولہا کے چہرے پر ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دولہا کی خوشی چند دن کی اور شاعر کی خوشی چند اشعار کی ہوتی ہے۔
لیکن اگر غزل واپس آ جائے تو شاعر کا عالم دیدنی ہوتا ہے۔ وہ لفافہ دیکھ کر ایسے افسردہ ہو جاتا ہے جیسے دلہا اپنی پہلی رات کا بلب فیوز دیکھ کر ہو جاتا ہے۔ کچھ شاعر تو اسی موقع پر شاعری چھوڑ دیتے ہیں لیکن زیادہ تر اپنی پرانی غزل کو دوبارہ کسی نئے اخبار کو بھیج دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ناکامی بھی شاعری کا حصہ ہے اور اسے بھی قافیہ میں ڈھال دینا چاہیے۔
ایڈیٹر صاحبان کی حالت اور بھی دگرگوں ہوتی ہے۔ ان کے دفاتر میں روزانہ اتنے غزلوں کے انبار آتے ہیں کہ لگتا ہے کوئی ادبی کباڑخانہ ہے۔ ایڈیٹر بعض اوقات سوچتے ہیں کہ یہ قوم پڑھنے سے زیادہ لکھنے پر کیوں تلی ہوئی ہے۔ کچھ شاعر اپنی غزل کے ساتھ تصویر بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ ایڈیٹر کم از کم ترس کھا کر غزل شائع کر دے۔ ایڈیٹر اس تصویر کو دیکھ کر یہی سوچتا ہے کہ اگر شاعری نہ بھی چھاپیں تو تصویر ضرور ’’بچوں کے صفحے‘‘ پر چھاپی جا سکتی ہے۔
ایک بار شائع ہونے کے بعد شاعر خود کو غالب کا جانشین سمجھنے لگتا ہے۔ وہ ہر مشاعرے میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔ مشاعرے کا حال بھی عجب ہے۔ لوگ شاعر کو سننے کے بجائے برداشت کرتے ہیں۔ شاعر اپنی باری پر آ کر جس اعتماد سے مائیک پکڑتا ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اب وہ دنیا بدل ڈالے گا۔ لیکن جب وہ شعر پڑھتا ہے تو سامعین یہ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ دنیا یونہی اچھی ہے۔ سامعین اکثر داد دینے کے بجائے سر پیٹتے ہیں۔ شاعر کے گھر والے بھی اسی قسم کے سامعین ہوتے ہیں۔ وہ داد دینے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ شاعر کا دل توڑنا کسی بڑے حادثے کو دعوت دینا ہے۔
شاعر کی نفسیات بڑی عجیب ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ لفظ ’’محبت‘‘ کو ’’محبّت‘‘ لکھ دے تو دنیا کی تاریخ بدل جائے گی۔ وہ قافیہ اور ردیف کے پیچھے ایسے بھاگتا ہے جیسے سیاستدان کرسی کے پیچھے۔ اگر قافیہ مل جائے تو غزل مکمل کر لیتا ہے، اگر نہ ملے تو مصرعہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے، مگر اسے شاہکار قرار دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شاعری ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ ایک بار لگ جائے تو زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ اس کا کوئی اینٹی بایوٹک نہیں، نہ کوئی سرجری۔ شاعر مر جائے تو لوگ کہتے ہیں: ’’افسوس! بڑا شاعر تھا۔‘‘ لیکن اکثر یہ جملہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مرنے والے کے اشعار سے اب مزید خطرہ نہیں رہا۔ بعض لوگ تو مرنے کے بعد ہی شاعر مانے جاتے ہیں، کیونکہ زندہ حالت میں وہ صرف خطرہ مانے جاتے ہیں۔
شاعری کے نقصانات بے شمار ہیں مگر فائدے بھی کچھ کم نہیں۔ مثال کے طور پر شاعر کو دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا، اس لیے وہ قرضہ لے کر بھی سکون سے زندگی گزار لیتا ہے۔ اس کی غزلیں سن کر بیوی کو رونا آ جائے تو یہ بھی ایک فائدہ ہے کہ کم از کم بیوی اپنی ساس کو کوسنے کی بجائے شوہر کو کوستی ہے۔ اور بچے باپ کی غزلیں سن کر یہ سوچتے ہیں کہ زندگی میں کم از کم ایک غلطی تو ہمیں نہیں کرنی: شاعری۔
یوں شاعری ایک ایسا المیہ ہے جس پر ہنسنے والے زیادہ اور سمجھنے والے کم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ المیہ اتنا قدیم ہے کہ غالب، میر اور فیض جیسے لوگ بھی اس میں مبتلا ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے اشعار پڑھنے کے قابل تھے اور آج کے شاعر کے اشعار برداشت کے قابل بھی نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں کوئی شاعر ہے تو اس کے ساتھ وہی رویہ رکھیں جو ڈاکٹر مریض کے ساتھ رکھتا ہے: ’’جی ہاں، آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘ اور اگر خدانخواستہ شاعر آپ خود ہیں تو پھر دنیا کے ہر طنز، ہر طعن اور ہر ہنسی کو شاعری میں ڈھال کر اپنا جی خوش رکھیں۔ باقی اللہ مالک ہے۔
تحریر: مزمل حسین چیمہ