تو ہوش میں ہے ، کسی طور بدحواس نہیں
اداس لڑکی! تری آنکھیں تو اداس نہیں
تمہارے جسم پہ یہ سرخ داغ کیسے ہیں
تمہارے جسم پہ تو ہجر کا لباس نہیں
ترے بغیر ہی ہم زندگی گزاریں گے
ہمارے ذہن میں اب دوسرا قیاس نہیں
ضرور وہ کسی اور کی تلاش میں ہو گی
وہ میرے پاس ہو کر بھی جو میرے پاس نہیں
لکھا گیا ہے مقدر میں رنج و غم کیوں کر
ہمارے ہاتھ محبت کی کیوں اساس نہیں
تمہاری دید کو آنکھیں ترس رہی ہیں غزلؔ
تمہارے جسم کی ہونٹوں کو کوئی پیاس نہیں
مزمل حسین چیمہ