دلِ خراب نے باندھا ہے ڈورِ وحشت سے یہی تعلقِ دیرینہ ہے طبیعت سے ہر ایک کو جو جتانے لگے
عشق ہونے سے پریشان ہو سکتا ہوں میں میں کہ حیراں ہوں کہ حیران ہو سکتا ہوں میں خود شناسی
باوجود اس کے یہ جہاد نہیں عشق کو عشق کہہ فساد نہیں بس تمہیں چومنا لطافت ہے چومنے میں کوئی
کہاں فرقت میں جینے کا قرینہ ہے اسے کہنا بھنور میں میری خواہش کا سفینہ ہے اسے کہنا ہماری سمت
وہ ایک شخص جو لوٹا نہیں ابھی تک بھی مگر وہ دل سے بھلایا نہیں ابھی تک بھی جو ایک
بات یہ ہے کہ کوئی بات نہیں اب زباں بھی ہمارے ساتھ نہیں بجھ چکے ہیں چراغ اندر سے اس
لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے اور ہم سٹپٹا رہے ہوں گے تم بغاوت کی بات کرتے ہو ہم
کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپنا گلہ بنتا ہے اب بے کار اپنا پس پردہ بہت بے پردگی ہے
دل درویش کی دعا سے اٹھا یہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھا جسم الجھا مگر تھکن اتری پر جو
ہے تلخ تر حیات اس شراب سے تو عشق ہار دے گا اجتناب سے کہانیاں دہک رہی ہیں رات کی









