All کلام و تخلیقات

غزلیں

ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی

غزلیں

رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

غزلیں

جیسے پردیس میں راتوں کو وطن کھینچتا ہے

غزلیں

حرف و خیال و تازگی شعری جمال اور شے

غزلیں

درد کا کہسار کھینچتا ہوں

غزلیں

گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ

غزلیں

میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے

غزلیں

سانپ نے غار میں رہائش کی

غزلیں

زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا

غزلیں

عام سی ہے دراز قد بھی نہیں