ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی غزل کچھ اور ہے کار ہنر سے آگے بھی یہ شعبدے کا
رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے ادھ کھلی ان کھڑکیوں پر جامنی پردے لگے خشک ہوتی بیل
جیسے پردیس میں راتوں کو وطن کھینچتا ہے یوں ترے دشت نوردوں کو چمن کھینچتا ہے کس کی آہیں یوں
حرف و خیال و تازگی شعری جمال اور شے گویا وہ حسن اور ہے اس کی سنبھال اور شے دیکھ
درد کا کہسار کھینچتا ہوں سانس کب ہے غبار کھینچتا ہوں عشق ہے ہی نہیں یہ تہمت ہے دل نہیں
گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ رفتگاں ششدر سبھی آئندگاں حیرت زدہ چوس لیتی ہے زمیں پانی جہاں ہوں
میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے کواڑ کھول کے پردہ اٹھا دیا اس نے جو سوچتے تھے
سانپ نے غار میں رہائش کی اور دیدار کی گزارش کی سبزگی نے غلاف کاڑھ لیا اور نعلین کی ستائش
زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا خوش بہت ہے مجھے خوش آب اس کا اس نے اپلوں پہ دیگچی
عام سی ہے دراز قد بھی نہیں پر محبت کی کوئی حد بھی نہیں سبزی مائل ہے آنکھ کا عدسہ









