All کلام و تخلیقات

غزلیں

وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے

غزلیں

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی

غزلیں

اس نے بھی خود کو بے کنار کیا

غزلیں

جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں

نظمیں

شکستہ گھر ہے

غزلیں

خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے

غزلیں

پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی

غزلیں

اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

غزلیں

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

غزلیں

سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے