جو زخم دل پہ تھا پھر سے بحال ہو گیا ہے
مجھے تو لگتا تھا کہ اندمال ہو گیا ہے
میں کس طرح کوئی اس کی مثال پیش کروں
جو ساری دنیا میں اب بے مثال ہو گیا ہے
وہ میرے درد کو کوشش سے اب سمجھتا ہے
مرے سکوت میں ایسا کمال ہو گیا ہے
ہمارا عشق جسے جاوداں سمجھتا تھا
وہ حسن دیکھ لو رو بہ زوال ہو گیا ہے
وہ ہم کو چھوڑ کے اب جس طرح سے رہتا ہے
ہمارے دل کو بھی اس کا ملال ہو گیا ہے
شبِ فراق نے کٹنا تھا صبحِ وصل مگر
یہ انتظار میں کیوں مجھ کو سال ہو گیا ہے
سنا ہے خود کشی کارِ حرام ہے زاہد
یہ کام ملک میں میرے حلال ہو گیا ہے
حکیم محبوب زاہد