گھر سے نکلی کہا سہیلی کا
پھول ہم راہ تھا چنبیلی کا
بالا خانے سے چیخ اٹھتی تھی
اور در بند تھا حویلی کا
وقت فرماں روائے دلی ہے
اور میں بخت ہوں بریلی کا
اس نے دست طلب دراز کیا
چھید ظاہر ہوا ہتھیلی کا
وقت کولہو ہے اور ہم سب بیل
منفرد ہے نظام تیلی کا
عقیل عباس
دھنی کلاں منڈی بہاءالدین