All عزلیں: عقیل عباس

غزلیں

میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے

غزلیں

سانپ نے غار میں رہائش کی

غزلیں

زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا

غزلیں

عام سی ہے دراز قد بھی نہیں

غزلیں

وہ گھوڑیوں کی طرح شوخ اور لچیلی تھی

غزلیں

گھر سے نکلی کہا سہیلی کا

غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا

غزلیں

دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا

منظر کی اوک سے بڑی اوچھی لپک اٹھی

غزلیں

وہ تو میں آگ جلانے سے میاں واقف تھا