میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے کواڑ کھول کے پردہ اٹھا دیا اس نے جو سوچتے تھے
سانپ نے غار میں رہائش کی اور دیدار کی گزارش کی سبزگی نے غلاف کاڑھ لیا اور نعلین کی ستائش
زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا خوش بہت ہے مجھے خوش آب اس کا اس نے اپلوں پہ دیگچی
عام سی ہے دراز قد بھی نہیں پر محبت کی کوئی حد بھی نہیں سبزی مائل ہے آنکھ کا عدسہ
وہ گھوڑیوں کی طرح شوخ اور لچیلی تھی میں شہسوار تھا لیکن گرفت ڈھیلی تھی لگا ہوا ہے زمانہ بڑائی
گھر سے نکلی کہا سہیلی کا پھول ہم راہ تھا چنبیلی کا بالا خانے سے چیخ اٹھتی تھی اور در
غار تھا غار کی تنہائی تھی آگے میں تھا دفعتاً آگ سی لہرائی تھی آگے میں تھا اسی ٹیبل پہ
دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا میں کسی بو کی جلن پا کے خبردار ہوا باغ کی سمت
منظر کی اوک سے بڑی اوچھی لپک اٹھی ہم جھڑ چکے تو پیڑ کی ڈالی لچک اٹھی پانی کی پیش
وہ تو میں آگ جلانے سے میاں واقف تھا ورنہ تو اپنے قبیلے سے کہاں واقف تھا انت میں کیا









