وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے دین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہے کیسی آواز ہے
کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی دم نہ لے پائے گا یہاں دم بھی کار بے کار کا اثاثہ
اس نے بھی خود کو بے کنار کیا جس کا ساحل نے انتظار کیا آئنے میں سلگ رہا تھا لہو
جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں وہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میں وہ رات میری
خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے گو ترے شہر میں جا کر کے بھی پیاسے آئے اس
پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی کیسے منزل کسی رہ گیر کا دکھ سمجھے گی کب سماعت
اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے کوئی تو ہو جو ترے بعد بھی سنبھالے مجھے میں مر رہا ہوں
صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے یعنی اس مانگ میں تارے کی جگہ خالی ہے نہر کے پار
سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے مرا یہ آخری سکہ نہ خرچ ہو جائے مجھے ہے شوق مرا
ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی غزل کچھ اور ہے کار ہنر سے آگے بھی یہ شعبدے کا









