All غزلیں

غزلیں

وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہے

غزلیں

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی

غزلیں

اس نے بھی خود کو بے کنار کیا

غزلیں

جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں

غزلیں

خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے

غزلیں

پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی

غزلیں

اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

غزلیں

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

غزلیں

سہانی یاد کا دھوکا نہ خرچ ہو جائے

غزلیں

ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی