میں منڈی بہاءالدین کے حلقہ 69 سے تعلق رکھتا ہوں اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ناصر اقبال بوسال کا ووٹر ہوں۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ کہیں میری بات کو کسی مخالف سیاسی زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ میرا ووٹ اخلاص اور امید کے ساتھ دیا گیا تھا، یہ سوچ کر کہ نئی قیادت عوامی خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔ جب مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ بنیں تو دل میں توقعات کی ایک دنیا جاگ اٹھی۔ خیال تھا کہ اب صوبے کی سیاست میں ایک نئی سمت نظر آئے گی، عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ٹھوس فیصلے کیے جائیں گے۔ لیکن وقت کے ساتھ سامنے آنے والے مناظر نے دل میں سوالات کے انبار کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کسی بھی ووٹر کی اصل توقعات بڑی سادہ مگر بنیادی ہوتی ہیں۔ اگر آفت آئے تو حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔ بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہیں بنیں، بیماروں کے لیے میڈیکل کیمپس لگیں، کسانوں کو ان کی فصلوں کے نقصان کا معاوضہ ملے، مویشیوں کے لیے چارہ اور ادویات فراہم ہوں اور متاثرہ خاندانوں کو یہ یقین ہو کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ مگر جب حالیہ سیلاب میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بہہ گئیں اور دیہاتیوں کی زندگی اجڑ گئی تو وزیر اعلیٰ کے جو اقدامات دکھائی دیے وہ زیادہ تر نمائشی تھے۔ متاثرہ بچوں میں چند ٹافیاں تقسیم کرنا، کچھ خواتین اور بزرگوں سے رسمی ملاقات کرنا اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے چند لمحے گزار دینا شاید عوامی خدمت کے بجائے عوامی تاثر کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ سوال کرنا میرا حق ہے کہ کیا یہ چند لمحوں کی سرگرمیاں لاکھوں متاثرین کے زخم بھر سکتی ہیں؟ کیا فوٹو سیشن ان کسانوں کی محنت کا نعم البدل ہے جن کی سال بھر کی کمائی پانی میں بہہ گئی؟ کیا چند ٹافیاں ان بچوں کا سہارا بن سکتی ہیں جن کے گھر بار مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں؟ عوام کو نمائشی کارروائیوں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ حکومت چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ کھڑی ہو، نہ کہ وہ قیادت جو صرف تصویروں تک محدود ہو جائے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتیں، فوج اور ریسکیو اداروں کو مکمل اختیارات دیتیں، ریلیف فنڈ کھول کر شفاف طریقے سے متاثرین تک پہنچاتیں۔ کسانوں کے لیے زرعی بحالی اسکیم کا اعلان کرتیں، متاثرہ خاندانوں کو نقد امداد دیتیں، اور روزانہ کی بنیاد پر ریویو رپورٹ عوام کے سامنے رکھتیں تاکہ شفافیت قائم رہتی۔ مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر حفاظتی بند اور ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کرتیں تاکہ آئندہ لوگ اس تباہی کا دوبارہ سامنا نہ کریں۔ یہی وہ اقدامات تھے جن سے عوام کو یقین ہوتا کہ ان کی قیادت ان کے دکھ سکھ میں شریک ہے۔ پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے، یہاں کے کسانوں کی محنت پر ہی شہروں کی معیشت کھڑی ہے۔ اگر ان کی فصلیں اجڑ جائیں اور حکومت صرف رسمی تسلیاں بانٹے تو یہ پورے صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ سیلاب متاثرین کو ٹافیاں نہیں، چھت چاہیے۔ فوٹو سیشن نہیں، کھانے پینے کا سامان چاہیے۔ رسمی ملاقاتیں نہیں، شفاف امداد چاہیے۔ عوامی اعتماد بچانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ میں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا، میں نے اپنے امیدوار کو اسمبلی میں بھیجا، اور آج بھی اپنی جماعت سے امید رکھتا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی میرا حق ہے کہ میں اپنی قیادت سے سوال کروں۔ میرا ووٹ صرف تصویروں کے لیے نہیں تھا، یہ عوامی خدمت کے لیے تھا۔ مریم نواز اگر واقعی ایک عوامی لیڈر بننا چاہتی ہیں تو انہیں فوٹو سیشن سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض نام کی وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ عوام کے دلوں کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ بصورت دیگر کل کو وہی عوام سوال کریں گے کہ ہمارا ووٹ کیوں ضائع ہوا؟ یہ کالم کسی دشمنی یا مخالفت کے تحت نہیں لکھا گیا۔ یہ ایک ووٹر کی آواز ہے، ایک ایسے شخص کی پکار ہے جس نے دل سے اپنی قیادت پر بھروسہ کیا۔ میری خواہش یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ عوام کے دکھ سکھ میں سچ مچ شریک ہوں، ان کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ قدم اٹھائیں اور اس صوبے کے لوگوں کو وہ سکون اور تحفظ دیں جس کے وہ حق دار ہیں۔ اگر یہ نہ ہوا تو پھر ہماری امیدیں محض خواب ہی رہ جائیں گی اور خواب ٹوٹ جائیں تو ووٹر کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ووٹ صرف بیلٹ باکس میں ڈالا ہوا پرچہ نہیں، یہ عوام کے دکھ سکھ کی امانت ہے، اور جو اس امانت کو نمائشی تصویروں پر قربان کر دے، وہ تاریخ کے کٹہرے میں عوام کے کڑے سوالوں سے بچ نہیں سکتا۔
تحریر: مزمل حسین چیمہ