انسان کی زندگی میں بے شمار نعمتیں اُس کے اختیار میں ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے عنایت کی ہیں۔ یہ نعمتیں صرف مادی وسائل تک محدود نہیں بلکہ جسمانی صحت، ذہنی صلاحیت، معاشرتی تعلقات، ہدایت، امن و سکون، اور دیگر معنوی امتیازات بھی شامل ہیں۔ لیکن ان نعمتوں کا وجود بذاتِ خود انسان کو کسی مقام پر نہیں پہنچاتا—بلکہ اس کا معیار یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کا ادراک کرے، شکرگزاری کا مظاہرہ کرے، انہیں ضائع نہ کرے اور انہیں ایسے راستے پر استعمال کرے جو اللہ کی رضا اور انسانیت کی فلاح کے مطابق ہو۔ قرآن کریم نے شکرگزاری کا فریضہ انسانی زندگی کا بنیادی جزو بنایا ہے، اور اس کے ذیل میں ناشکری کی خبرداریاں بھی دی ہیں۔ یہ مضمون اس امر کا تجزیہ کرتا ہے کہ شکرگزاری کیا ہے، نعمتوں کا ادراک کس معنی میں ہے، انسانی زندگی میں اس کا عملی اطلاق کیسے ہو سکتا ہے، اور آج کے دور میں ایک مومن کس طرح اس ذمہ داری کو نبھا سکتا ہے۔
انسان کی ذمہ داری اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ ذہن و دل سے یہ اعتراف کرے کہ اُس نے جو کچھ بھی نعمت پائی ہے، وہ خود کی محنت کے سبب نہیں، بلکہ اللہ کی عطا اور فضل کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو تاکہ تم شکر گزار بنو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۵۲)
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شکرگزاری فقط زبان کی ادا نہیں بلکہ شعورِ نعمت کا اظہار ہے۔ جب انسان شکرگزاری کی اس حالت میں پہنچے کہ وہ اپنے اختیار اور طاقت کو اللہ کے عطا کردہ وسائل کی روشنی میں دیکھے، تو یہ شکرگزاری کی شروعات ہے۔
قرآن نے ایک اور مقام پر فرمایا ہے:
“اور اگر اللہ تمہیں کوئی نعمت دے اور تم اس کا شکر ادا نہ کرو تو یقیناً اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔” (سورۃ النحل: ۱۴)
یہ تنبیہ واضح کرتی ہے کہ شکرگزاری اور ناشکری صرف مادی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ اخلاق، عمل اور ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر انسان نعمت کی حالت میں اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرے، نعمت کو ضائع کرے یا غلط استعمال کرے، تو یہ ناشکری کے زمرے میں آتی ہے، اور اس کا نتیجہ نقصان یا حتیٰ کہ عذاب کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔
انسان کی موجودہ زندگی تکنیکی ترقی، علم و فن، وسائل کی کثرت اور معاشی مواقع کے لحاظ سے پہلے کے مقابلے میں بہت مختلف ہے۔ اس ترقی نے ہمیں بے شمار سہولیات دی ہیں، مگر ساتھ ہی دعوے، گمراہی، فراموشی اور ضیاع کے نئے مسائل بھی جنم دیے ہیں۔ اس پس منظر میں شکرگزاری کی اہمیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین اور آسمان کی ہر نعمت کے بعد تمہارے لیے ذمہ داریاں ہیں، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ تم پر غصہ کرے گا اور عذاب اس کا شدید ہے۔” (سورۃ ابراہیم: ۷)
یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہر نعمت اپنی نوعیت میں ایک ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے۔ جب انسان سوچے کہ اس کو دی گئی نعمت کے استعمال اور اثرات کے حوالے سے جوابدہ ہے، تو شکرگزاری کا اصل معنی جلوہ گر ہوتا ہے۔
قرآن نے اس بات کی جانب نیز اشارہ کیا ہے کہ شکرگزاری ایک ایسا عمل ہے جس کا اثر خود انسان پر پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور اگر تم شکر ادا کرو تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب سخت ہے۔” (سورۃ ابراہیم:
یہ آیت بتاتی ہے کہ شکر کا اثر دنیاوی سطح پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے—نكاح کہ نعمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور ناشکری کا نتیجہ کمی یا نقصان کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ مگر اس کا اہم مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ کے احکام اور مقصد تخلیق کی روشنی میں منظم کرے۔
نعمتوں کا ادراک صرف مادی نہیں بلکہ معنوی سطح پر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“یہ وہ اللہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھایا اور اس میں راستے بنائے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔” (سورۃ الطور: ۱۹)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نعمت میں صرف وہ چیز شامل نہیں جو نظر آتی ہے، بلکہ زمین کا نظام، وسائل کا ترتیب، زندگی کا انتظام، اور ہدایت کا راستہ بھی ایک نعمت ہے۔ انسان اگر ان کو نہ پہچانے تو وہ برائی یا فراموشی کا شکار ہو سکتا ہے۔
شکرگزاری کا مطلب مادی وسائل کے مثبت استعمال کے ساتھ ساتھ، انہیں ضائع نہ کرنا، انہیں برائی اور ظلم کے لیے استعمال نہ کرنا اور انہیں ایسے راستے پر لگانا ہے جو معاشرتی بھلائی کا باعث بنے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اور انسانوں کے مال اور حقوق پر ناجائز قبضہ نہ کرو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۱)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نعمت کا استعمال ذاتی لالچ یا استحصال کے لیے نہیں بلکہ عدل و انصاف، ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انسان کی زندگی میں سب سے بڑی نعمت ہدایت اور ایمان ہے، اور اس کے شکر کا مطلب صرف زبانی حمد نہیں بلکہ اس کی روشنی میں زندگانی گزارنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین کے ذرّات میں وہ چیزیں رکھی ہیں جو تمہیں معلوم نہیں، اور ہم نے تمہارے لیے ان میں راہیں پیدا کی ہیں تاکہ تم فلاح پاؤ۔” (سورۃ الطور: ۱۹)
یہ آیت انسان کی محدود فہم کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نعمتوں کی تہہ تک پہنچے، فکر کرے، شعور پیدا کرے اور اپنے اعمال کو بہتر بنائے۔
شکرگزاری کے عملی پہلو میں شامل ہے کہ انسان وہ نعمت جنہیں اختیار میں رکھتا ہے، انہیں دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کرے، تعاون کرے، اور معاشرت میں مثبت اثرات پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین اور آسمان کی ہر نعمت کے بعد تمہارے لیے ذمہ داریاں ہیں…” (سورۃ ابراہیم: ۷)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شکرگزاری محض لفظ نہیں بلکہ عمل اور ذمہ داری کا اظہار ہے۔شکرگزاری اور نعمتوں کا ادراک قرآن کریم کا ایک بنیادی اخلاقی اور عملی حکم ہے۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نعمتوں کو پہچانے، اللہ کا شکر ادا کرے، ان کا بُرا یا ضائع استعمال نہ کرے، اور انہیں ایسی راہوں پر لگائے جو خود انسان اور معاشرت دونوں کے لیے فلاح کا باعث ہوں۔ شکرگزاری ناصرف روحانی سکون اور اخلاقی بلندی کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے باعث نعمتوں کی دوام اور کیفیت میں بہتری بھی ممکن ہے۔ اور ناشکری صرف نعمتوں کا انکار نہیں بلکہ انہیں غلط استعمال کرنا، ضائع کرنا اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنا ہے، جس کا نتیجہ دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ شعوری انداز میں اپنی زندگی کا جائزہ لے، نعمتوں کی قدر کرے، شکرگزاری کا عملی اظہار کرے، اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا اور انسانیت کی بھلائی کے مطابق لگا دے۔