توحیدِ الوہیت — عبادت میں خالص اللہ کی بندگی
قرآنِ مجید کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا پیغام “اللہ ایک ہے” ہے —
نہ اس کا کوئی شریک، نہ ہمسر، نہ مددگار۔
اس کی عبادت میں کسی کو شامل کرنا سب سے بڑی گمراہی ہے،
اور اسی کا خالص ماننا ایمان کی بنیاد۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔”
(سورۃ البقرہ: ۱۶۳، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت توحیدِ الوہیت کا اعلانِ ازل ہے —
کہ بندگی، دعا، خوف، امید، نذر و نیاز، حکم و اطاعت —
سب صرف اللہ کے لیے ہیں۔
قرآنِ حکیم میں “عبادت” کا مفہوم محض سجدہ یا نماز تک محدود نہیں بلکہ
زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی اطاعت،
اور ہر فیصلہ اس کے حکم کے تابع کرنے کا نام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کہہ دو: میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔”
(سورۃ الانعام: ۱۶۲)
یہ آیت توحیدِ الوہیت کا عملی منشور ہے —
کہ بندگی صرف عبادت گاہ میں نہیں،
بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی اطاعت ہی حقیقی عبادت ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا کہ
عبادت خالص اسی کے لیے ہونی چاہیے۔
“اور انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔”
(سورۃ البینہ: ۵)
یہ خلوصِ نیت اور اطاعتِ کامل کا پیغام ہے۔
توحیدِ الوہیت یہ چاہتی ہے کہ انسان اپنے دل، زبان اور عمل میں
کسی کو بھی اللہ کے برابر نہ سمجھے،
نہ کسی کے سامنے جھکے، نہ کسی سے ایسی امید رکھے جو صرف رب سے وابستہ ہو۔
قرآن ان لوگوں کو سخت تنبیہ کرتا ہے جو عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں:
“اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تو خود اپنی حاجتوں کے لیے دعا کرتے ہیں، اگر سچے ہو تو انہیں پکارو، وہ تمہاری سن ہی نہیں سکتے، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہ دے سکیں۔”
(سورۃ فاطر: ۱۳–۱۴)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مخلوق خواہ کتنی ہی محترم کیوں نہ ہو،
وہ خالق کے درجے میں نہیں آ سکتی۔
عبادت، دعا، توکل، خوف اور امید —
یہ سب صرف اسی کے لیے روا ہیں جو سب پر قادر ہے۔
قرآن انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ بندگی دراصل عقیدہ اور عمل کا اتحاد ہے۔
جو اللہ کو “الٰہ” مانتا ہے،
اسے اپنی زندگی کے فیصلوں، قانون، اور طرزِ عمل میں بھی
اسی کی اطاعت کو اولیت دینی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟”
(سورۃ الجاثیہ: ۲۳)
یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ
اگر انسان اللہ کی اطاعت کے بجائے
اپنی خواہشات، رسوم یا انسانی نظاموں کی پیروی کرتا ہے،
تو وہ عملاً شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے —
چاہے زبانی طور پر توحید کا دعویٰ کرتا رہے۔
توحیدِ الوہیت انسان کے اندر آزادی اور غلامی کے صحیح مفہوم کو بیدار کرتی ہے۔
یہ انسان کو ہر باطل قوت کی غلامی سے نکال کر
اللہ کی بندگی میں لاتی ہے،
جہاں عزت، امن اور سکون ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔”
(سورۃ النحل: ۳۶)
یہی دعوتِ رسالت کا بنیادی پیغام ہے —
کہ بندگی اللہ کے لیے ہو اور ان تمام قوتوں سے نجات حاصل کی جائے
جو اللہ کے حکم سے ہٹ کر انسان پر حکومت کرتی ہیں۔
توحیدِ الوہیت دراصل ایک انقلابی تصورِ زندگی ہے۔
یہ انسان کو بتاتی ہے کہ سجدہ، قانون، رزق، خوف اور محبت —
سب کے مرکز میں صرف اللہ ہونا چاہیے۔
قرآن کہتا ہے:
“اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔”
(سورۃ النساء: ۳۶)
یہ حکم صرف انفرادی عبادت کے لیے نہیں،
بلکہ اجتماعی نظام کے لیے بھی ہے۔
جب کسی معاشرے کا قانون، نظامِ عدل یا سیاست
اللہ کے احکام سے ہٹ کر بنائی جائے،
تو وہ دراصل الوہیت کے تصور سے انحراف ہے۔
قرآن میں شرک کو سب سے بڑی نافرمانی قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بیشک اللہ یہ نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کم جسے چاہے بخش دیتا ہے۔”
(سورۃ النساء: ۴۸)
یہ تنبیہ واضح کرتی ہے کہ
اللہ کے مقابلے میں کسی کو اختیار، طاقت، یا اثر دینے کا عقیدہ
توحید کی بنیاد کو متزلزل کر دیتا ہے۔
توحیدِ الوہیت کی روح یہ ہے کہ
انسان اللہ سے محبت بھی اسی درجے کی کرے جو صرف اس کا حق ہے،
اس سے ڈرے، اسی پر بھروسہ کرے،
اور اسی سے کامیابی کی امید رکھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، ان سے اللہ کی طرح محبت کرتے ہیں، حالانکہ ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔”
(سورۃ البقرہ: ۱۶۵)
یہ آیت بندگی کی حقیقت کو دل کی گہرائی تک اتارتی ہے —
کہ عشق، خوف، امید اور رضا سب صرف ایک ہی ذات کے لیے مخصوص ہیں۔
آج کا انسان دنیاوی نظاموں، مفادات، رواجوں اور نظریات کا اسیر بن چکا ہے۔
وہ زبان سے “اللہ واحد” کہتا ہے مگر دل سے
دنیا کے طاقتوروں، خواہشات یا اسباب پر بھروسہ کرتا ہے۔
قرآن ایسے انسان کو غفلت میں قرار دیتا ہے:
“اور جب ان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں،
پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے، تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔”
(سورۃ الروم: ۳۳)
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ایمان صرف زبان کا نہیں بلکہ دل اور عمل کا معاملہ ہے۔
توحیدِ الوہیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کا سارا نظامِ حیات
اللہ کی اطاعت پر قائم ہو،
خواہ وہ عبادت ہو یا سیاست، معیشت ہو یا اخلاق۔
قرآن کہتا ہے:
“اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے،
پھر جو کوئی کفر کرے گا،
اس کا کفر اسی کے خلاف ہوگا۔”
(سورۃ فاطر: ۳۹)
یہ اعلانِ ربانی ہے کہ انسان کا اصل شرف بندگی میں ہے —
اور کفر دراصل اللہ کی حاکمیت کو رد کرنے کا نام ہے۔
توحیدِ الوہیت کا مفہوم یہ نہیں کہ اللہ کو صرف “خدا” مان لیا جائے،
بلکہ یہ کہ ہر عمل میں، ہر فیصلے میں،
اسی کی اطاعت کو اولیت دی جائے۔
قرآن کی زبان میں یہی ہے “عبادت میں خلوص” —
اور یہی ایمان کا اصل جوہر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کہہ دو: میں تو اپنے رب کی عبادت ہی کرتا ہوں، اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص رکھتا ہوں۔”
(سورۃ الزمر: ۱۴)
یہی وہ کلمہ ہے جو انسان کو غلامی سے آزاد،
اور بندگی میں سربلند کرتا ہے —
لا الٰہ الا اللہ کا عملی مفہوم یہی ہے۔