توحیدِ ربوبیت — کائنات کے نظام میں اللہ کی وحدانیت
اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں اپنی ربوبیت کو ہر شے پر ظاہر کیا ہے۔
کائنات کی ہر چیز — زمین، آسمان، پانی، ہوا، زندگی اور موت —
اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کی گواہی دے رہی ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا کوئی جز ایسا نہیں جو اپنے رب کے حکم سے آزاد ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بیشک تمہارا ربّ وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا، وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے، جو تیزی سے اس کے پیچھے آتا ہے، اور سورج، چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔”
(سورۃ الاعراف: ۵۴، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت توحیدِ ربوبیت کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے —
کہ کائنات کے نظام میں کوئی قوت، کوئی حرکت، کوئی وجود ایسا نہیں جو اللہ کی اجازت کے بغیر قائم ہو۔
قرآن کے نزدیک “ربّ” صرف خالق نہیں، بلکہ پالنے والا، سنبھالنے والا، اور نظام چلانے والا ہے۔
یعنی جس نے پیدا کیا وہی رزق دیتا ہے، وہی ہدایت دیتا ہے، اور وہی ہر مخلوق کے انجام کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ ہی نے پیدا کیا تمہیں، پھر رزق دیا تمہیں، پھر تمہیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرتا ہو؟”
(سورۃ الروم: ۴۰)
یہ آیت انسان کی عقل کو مخاطب کرتی ہے۔
اگر کائنات میں اللہ کے سوا کوئی اور طاقت ہوتی تو وہ بھی تخلیق، رزق یا موت پر اختیار رکھتی —
مگر ایسا نہیں۔
کائنات میں جو کچھ ہے، وہ ایک ہی رب کے اختیار میں ہے۔
قرآنِ مجید میں توحیدِ ربوبیت کو بار بار اس لیے بیان کیا گیا ہے
کہ انسان اپنے ربّ کے نظام میں اپنی جگہ پہچانے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس سے تمہارے لیے رزق کے طور پر پھل پیدا کیے، اور اس نے تمہارے لیے کشتی کو تابع کیا کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے، اور تمہارے لیے دریا بھی تابع کیے۔”
(سورۃ ابراہیم: ۳۲)
یہ آیت اس حقیقت کو کھولتی ہے کہ اللہ کی ربوبیت صرف آسمانوں تک محدود نہیں بلکہ
انسان کی زندگی کے ہر گوشے میں ظاہر ہے —
سماجی، معاشی، طبعی اور روحانی ہر نظام میں۔
قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ کائنات کے اس توازن سے اپنے ربّ کو پہچانے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
(سورۃ آلِ عمران: ۱۹۰)
یعنی جس نے نظامِ کائنات کو اس کامل توازن میں قائم کیا،
وہی ربّ ہے —
اور جو اس نظام کو سمجھ کر زندگی گزارتا ہے، وہی ربوبیت کی حقیقت کو ماننے والا ہے۔
توحیدِ ربوبیت دراصل انسان کے فکر اور رویّے کو درست کرتی ہے۔
یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ دنیا کا کوئی حادثہ، کامیابی یا ناکامی
اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ ہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو، اور وہ انہیں خوشگوار ہوا کے ساتھ لے چلتی ہیں، اور وہ خوش ہوتے ہیں، اچانک ان پر تیز ہوا آتی ہے اور ہر طرف سے موجیں انہیں گھیر لیتی ہیں، تب وہ اللہ ہی کو پکارتے ہیں، اخلاص کے ساتھ۔”
(سورۃ یونس: ۲۲)
یہ منظر انسان کے فطری ایمان کی نشاندہی کرتا ہے۔
جب سب وسائل ختم ہو جاتے ہیں، تب انسان فطرتاً ایک ہی ربّ کی طرف رجوع کرتا ہے —
یہی توحیدِ ربوبیت ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ربوبیت کا انکار صرف شرک نہیں بلکہ نظامِ حیات سے انحراف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا، اور سورج اور چاند کو تابع کیا، تو ضرور کہیں گے اللہ نے، پھر تم کہاں بہکائے جا رہے ہو؟”
(سورۃ العنکبوت: ۶۱)
یعنی مشرکین بھی ربوبیت کا زبانی اقرار کرتے تھے،
مگر عملی طور پر اللہ کے حکم سے ہٹ کر جیتے تھے —
یہی انسان کی سب سے بڑی گمراہی ہے۔
توحیدِ ربوبیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی، اپنی معیشت، اپنے فیصلوں اور اپنے منصوبوں
سب میں اللہ کی تدبیر کو مقدم رکھنا چاہیے۔
کیونکہ کائنات کا ربّ وہی ہے،
اور بندگی اسی ربّ کے نظام کے تابع ہو کر ہی ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کہہ دو: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو ربّ بناؤں حالانکہ وہی ہر چیز کا ربّ ہے؟”
(سورۃ الانعام: ۱۶۴)
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ اگر انسان کسی بھی معاملے میں
کسی قوت، قانون یا نظام کو اللہ کے حکم سے بالاتر سمجھنے لگے،
تو وہ دراصل ربوبیت کی حقیقت سے انحراف کر رہا ہے۔
توحیدِ ربوبیت صرف عقیدہ نہیں بلکہ عملی شعور ہے۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان اپنی تدبیر میں اللہ پر بھروسہ کرے،
اور اپنے وسائل کو اسی کی رضا کے تابع رکھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اللہ ہی تمہارا ربّ اور تمہارے باپ دادا کا ربّ ہے۔”
(سورۃ الصافات: ۱۲۶)
یہ آیت یاد دہانی ہے کہ ربوبیت صرف ایک نسل یا قوم تک محدود نہیں،
بلکہ ازل سے ابد تک ایک ہی ربّ کا نظام جاری ہے۔
آج کے انسان نے سائنسی ترقی، معاشی قوت، اور مادّی علم میں آگے بڑھ کر
ربوبیت کے شعور کو کمزور کر دیا ہے۔
وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے۔
لیکن قرآن اسے جھنجھوڑتا ہے:
“کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے جا رہے ہیں؟”
(سورۃ الرعد: ۴۱)
یہ تنبیہ ہے کہ انسان کی طاقت محدود ہے،
کائنات کا نظام اب بھی اسی ربّ کے اختیار میں ہے
جس نے اسے قائم کیا۔
قرآن میں ربوبیت کا تصور اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ
انسان اگر اپنے ربّ کی وحدانیت کو مان لے تو وہ سکون، عدل، اور اطمینان حاصل کرتا ہے۔
کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر چیز ایک ربّ کے حکم سے چل رہی ہے،
اور کوئی معاملہ بے مقصد نہیں۔
آخر میں قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہی ہر چیز پر کارفرما ہے۔”
(سورۃ الزمر: ۶۲)
یہ آیت توحیدِ ربوبیت کا خلاصہ ہے —
کہ تمام وجود ایک ہی ربّ کے قبضے میں ہے،
اور اسی کی ربوبیت کائنات کا اصل توازن ہے۔