انسان کی فطرت میں آزادی کا شوق اور اختیار کا احساس ودیعت کیا گیا ہے۔
وہ سوچتا ہے، فیصلہ کرتا ہے، عمل کرتا ہے —
لیکن یہ اختیار مطلق نہیں، بلکہ اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہے۔
قرآن مجید نے اس حقیقت کو نہایت متوازن انداز میں واضح کیا ہے
کہ انسان کو ارادہ دیا گیا ہے مگر وہ مالک نہیں بلکہ بندہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ چاہے، بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔”
(سورۃ الانسان: ۳۰، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت انسانی اختیار اور ربانی ارادے کے درمیان وہی توازن بیان کرتی ہے
جو توحید کی روح ہے۔
یعنی انسان کو ارادہ دیا گیا ہے، مگر اس ارادے کی قوت اور نتیجہ اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
قرآن میں انسانی زندگی کو امتحان قرار دیا گیا ہے۔
اگر انسان مجبور ہوتا تو امتحان بے معنی ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے، اور وہ زبردست، بخشنے والا ہے۔”
(سورۃ الملک: ۲)
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ انسان کو آزمایا جا رہا ہے،
اور امتحان تبھی ممکن ہے جب انسان کو اختیار حاصل ہو۔
مگر یہی اختیار دراصل بندگی کی آزمائش ہے —
کہ وہ اپنی آزادی کو ربّ کی اطاعت میں استعمال کرتا ہے یا نافرمانی میں۔
قرآن میں بندگی کو غلامی نہیں بلکہ حقیقی آزادی قرار دیا گیا ہے۔
جب انسان اللہ کی بندگی اختیار کرتا ہے،
تو وہ ہر باطل قوت، خواہش اور ظلم کی غلامی سے نجات پاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور میں نے جنّوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔”
(سورۃ الذاریات: ۵۶)
یعنی بندگی انسان کا مقصدِ تخلیق ہے،
اور یہی بندگی آزادی کی اصل بنیاد ہے۔
جب انسان اپنے ارادے کو ربّ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے،
تو وہ کائنات کے نظم سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔
توحید دراصل اس توازن کا نام ہے
جہاں انسان اختیار رکھتا ہے مگر خود مختار نہیں ہوتا۔
وہ ارادہ کرتا ہے، کوشش کرتا ہے، مگر انجام اللہ کے ہاتھ میں دیتا ہے۔
قرآن فرماتا ہے:
“اور کہہ دو کہ ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے،
جو تمہیں اختیار دیتا ہے،
پھر جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے،
اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔”
(سورۃ الانعام: ۱۲۵)
یہ آیت بندگی کی گہرائی کو بیان کرتی ہے —
کہ ایمان کا پہلا درجہ ہے ارادے کی درست سمت،
اور کامیابی کا راز ہے اللہ کی مرضی پر رضا۔
قرآن کے نزدیک انسان کا اختیار
اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے، نہ کہ خود مختاری۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بےشک ہم نے امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی،
انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے،
اور انسان نے اسے اٹھا لیا،
بیشک وہ بڑا ظالم، نادان ہے۔”
(سورۃ الاحزاب: ۷۲)
یہ “امانت” دراصل اختیار اور ذمہ داری ہے —
کہ انسان علم، عقل، اور ارادے کے باوجود
اللہ کے حکم کے تابع رہ کر زندگی گزارے۔
توحید ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ
انسان اپنی تدبیر میں آزاد ہے مگر نتیجے کا مالک نہیں۔
یہی ایمان کا حسن ہے —
کہ بندہ کوشش کرے مگر بھروسہ صرف رب پر رکھے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور تم جو کچھ چاہتے ہو، وہ نہیں ہوتا مگر جو اللہ چاہے،
بیشک اللہ سب جہانوں کا رب ہے۔”
(سورۃ التکویر: ۲۹)
یہ آیت انسان کے غرور کو توڑ کر
اسے عاجزی اور توکل کی راہ دکھاتی ہے۔
توحید اور اختیار کے درمیان توازن کی مثال
ایک مسافر کی طرح ہے جو کشتی میں بیٹھا ہوا ہے —
وہ حرکت تو کرتا ہے، مگر سمندر کے بہاؤ پر اس کا بس نہیں۔
اسی طرح انسان فیصلے کرتا ہے،
مگر نتائج اللہ کی حکمت سے طے ہوتے ہیں۔
قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ
اختیار کو بندگی سے جدا کر دینا
سرکشی اور گمراہی کا باعث بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ہم نے اسے راستہ دکھایا،
اب چاہے شکر کرے یا کفر کرے۔”
(سورۃ الدہر: ۳)
یہی وہ توازن ہے جسے قرآن نے “اختیار” کا معیار قرار دیا —
یعنی انسان کو آزادی دی گئی، مگر وہ جواب دہ بھی ہے۔
بندگی اور آزادی کا یہ امتزاج
انسان کے اندر خوف اور امید دونوں پیدا کرتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ ہر عمل کا حساب ہے،
لیکن ساتھ یہ یقین بھی رکھتا ہے کہ ربّ رحیم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“جو کوئی نیکی کرے گا، اس کے لیے بہتر بدلہ ہے،
اور جو بدی کرے گا، تو اس پر ویسا ہی بدلہ ہوگا،
اور تمہارے رب پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔”
(سورۃ فصلت: ۴۶)
یہ عدلِ الٰہی انسان کو یقین دیتا ہے کہ
اختیار بے معنی نہیں،
اور بندگی اندھی غلامی نہیں۔
آج کے انسان نے جب “آزادی” کے نام پر
خالق سے لاتعلقی اختیار کر لی،
تو وہ اپنے ہی بنائے نظاموں، خواہشات اور خوفوں کا غلام بن گیا۔
قرآن اس طرزِ فکر کو فریب قرار دیتا ہے:
“اور مت بناؤ اپنے لیے اللہ کے سوا کسی اور کو ولی،
وہی سب کا خالق ہے،
اور وہی تمہیں روزی دیتا ہے۔”
(سورۃ الانعام: ۱۴)
توحید انسان کو اس فریب سے نکالتی ہے،
اور یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی آزادی
صرف اس وقت ممکن ہے جب بندگی خالص ہو۔
بندگی کا مطلب ہے اپنی آزادی کو
اللہ کی رضا میں سمو دینا —
یہی ایمان کی معراج ہے۔
قرآن نے ایمان والے کو وہ شخصیت بنایا ہے
جو دنیا میں عمل کرتا ہے،
لیکن نتائج اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور کہہ دو: عمل کرو، پھر اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا،
اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی۔”
(سورۃ التوبہ: ۱۰۵)
یہ آیت بندگی اور اختیار کے عملی امتزاج کی تصویر ہے۔
بندہ اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے،
اور اللہ پر توکل کرتا ہے —
یہی ایمان کی سچی تصویر ہے۔
توحید اور انسانی اختیار کا فلسفہ
درحقیقت انسان کی روحانی آزادی کی بنیاد ہے۔
جب بندہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ خود مالک نہیں بلکہ امانت دار ہے،
تو وہ ظلم، غرور، اور خودپرستی سے پاک ہو جاتا ہے۔
اسے یقین ہوتا ہے کہ اختیار امتحان ہے،
اور بندگی کامیابی کا راستہ۔
آخر میں قرآن بندے کو یہ تعلیم دیتا ہے:
“اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔”
(سورۃ الکہف: ۴۹)
یعنی انسان کا ہر ارادہ، ہر عمل، ہر فیصلہ
عدل کے ترازوں میں تولا جائے گا۔
یہ عدل ہی بندگی اور آزادی کے توازن کی ضمانت ہے۔