جس سے فلک پڑے گی دل پائمال میں
وہ کہکشاں نہیں ہے ترے خد و خال میں
وہ رات میری نیند کا قضیہ اٹھا نہ دے
دن کاٹتا ہوں اب میں اسی احتمال میں
خوابیدگی کی تاب ابھاروں گا شعر میں
تیرا جمال اونگھ رہا ہے خیال میں
اب گیلی لکڑیوں کا بہانہ فضول ہے
دن بھر سے آگ گھوم رہی ہے جلال میں
یعنی یہ جسم اپنی کھنک سے کھڑا ہوا
یا اختیار آب سے اترا سفال میں
نعیم رضا بھٹی
پاہڑیانوالی ، منڈی بہاءالدین