اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات کی سب سے عظیم مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا۔ اس کی تخلیق محض جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک روحانی امانت ہے جسے اللہ نے اپنی خاص توجہ اور مقصد کے ساتھ وجود بخشا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
“اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” (سورۃ البقرہ: ۳۰)
یہ آیت انسانی تخلیق کے مقصد کو واضح کرتی ہے۔ انسان محض زمین کا باسی نہیں بلکہ زمین پر اللہ کا نائب ہے۔ خلافت کا مطلب ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے احکام کے مطابق نظامِ عدل، علم، امن اور فلاح کو قائم کرے۔ مگر یہ درجہ محض اعزاز نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔
انسان کی تخلیق کے مراحل کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے:
“اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر اسے نطفہ بنا کر ایک مضبوط جگہ میں رکھا، پھر نطفے کو علقہ، پھر علقہ کو مضغہ بنایا، پھر مضغہ سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اس کو ایک اور صورت میں پیدا کیا۔ پس بڑا بابرکت ہے اللہ، سب بنانے والوں میں سب سے اچھا بنانے والا۔” (سورۃ المؤمنون: ۱۲–۱۴)
یہ آیات نہ صرف انسانی جسمانی تخلیق کا بیان ہیں بلکہ اللہ کی صناعی اور انسان کے باطنی مقصد کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔ انسان کا جسم، عقل، شعور اور احساس — سب مل کر اس ذمہ داری کی بنیاد بنتے ہیں کہ وہ زمین پر خیر، علم، انصاف اور فلاح کا علمبردار بنے۔
انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دی گئی تاکہ وہ علم و تدبر سے کائنات کے نظام کو سمجھے اور اللہ کے احکام کے مطابق اسے درست طریقے سے استعمال کرے۔ قرآن کہتا ہے:
“اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا اور بعض کو بعض پر درجے بلند کیے تاکہ تمہیں آزمائے جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے۔” (سورۃ الانعام: ۱۶۵)
یہاں انسان کی اصل آزمائش سامنے آتی ہے۔ علم، طاقت، وسائل اور اختیار — سب امتحان ہیں۔ اگر انسان ان نعمتوں کو عدل، خدمتِ خلق، اور اللہ کی اطاعت میں استعمال کرے تو کامیابی ہے۔ لیکن اگر وہ ان کو ظلم، حرص یا فساد کے لیے بروئے کار لائے تو یہی وسائل اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں۔
آج کا انسان علم و سائنس میں آگے ہے، مگر اپنی تخلیقی ذمہ داری کو بھلا بیٹھا ہے۔ قدرتی وسائل کا استحصال، ظلم، ناپائیدار طرزِ زندگی، اور انسانوں میں تفاوت — یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ انسان نے خلافت کا حق ادا نہیں کیا۔ قرآن اس طرزِ عمل پر تنبیہ کرتا ہے:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ بعد اس کے کہ اس میں اصلاح کی جا چکی۔” (سورۃ الاعراف: ۵۶)
قرآن ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ انسان کو اپنی تخلیق کے مقصد کو پہچاننا چاہیے۔ یہ مقصد صرف عبادت کے چند رسمی اعمال تک محدود نہیں بلکہ ہر پہلو میں اللہ کی مرضی کے مطابق چلنا ہے — چاہے وہ معاشرت ہو، معیشت ہو، یا علم کا میدان۔
انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کا اصل کام زمین پر عدل، علم، توازن اور رحمت کو قائم رکھنا ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
“بیشک ہم نے انسان کو سب سے بہتر صورت میں پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے پست ترین حالت میں لوٹا دیا۔” (سورۃ التین: ۴–۵)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ انسان کی تخلیق میں بلندی اور پستی دونوں امکانات رکھے گئے ہیں۔ اگر وہ اپنی عقل، علم اور ایمان کو مثبت سمت میں استعمال کرے تو بلند ترین مقام پر پہنچ سکتا ہے، اور اگر وہ اپنی فطرت سے انحراف کرے تو سب سے نچلے درجہ میں جا سکتا ہے۔
اس عہدِ جدید میں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے پناہ قوت دی ہے، وہاں قرآن کی یہ تعلیم پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ انسان کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ علم اور طاقت خلافتِ ارضی کا حصہ ہیں، مگر اگر یہ اخلاقی حدود سے خالی ہوں تو یہ نعمتیں عذاب میں بدل سکتی ہیں۔
انسان کی تخلیقی ذمہ داری کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ:
-
خود کو اللہ کی بندگی کے تابع رکھے،
-
زمین میں عدل و توازن قائم کرے،
-
علم و فہم کو خیر کے لیے استعمال کرے،
-
اور اللہ کی نعمتوں کو ضائع یا فتنہ انگیز طریقے سے استعمال نہ کرے۔
قرآن کے مطابق یہی وہ طرزِ عمل ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی اور ابدی فلاح کی طرف لے جاتا ہے۔
“اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں، ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔” (سورۃ البینہ: ۷–۸)