قرآن مجید میں وحدتِ امت صرف ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو بار بار یہ یاد دلایا کہ وہ ایک ہی امت ہیں،
اور ان کا رب ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، اور ان کی منزل ایک ہے۔
امت کا بٹ جانا دراصل توحید کے نظام سے بغاوت ہے،
اور اس کا سدِباب وہی کر سکتا ہے جس کے پاس علمِ دین اور بصیرتِ قرآن ہو — یعنی علماء۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو،
اور یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر تھی کہ تم آپس میں دشمن تھے،
پھر اس نے تمہارے دل جوڑ دیے،
تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔”
(سورۃ آل عمران: ۱۰۳، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت وحدتِ امت کا سب سے بنیادی اعلان ہے۔
اللہ کی رسی یعنی قرآن — جو سب کو جوڑنے کے لیے نازل ہوا —
اگر اہلِ علم ہی اسے مختلف مفادات یا تعصبات کے رنگوں میں بانٹ دیں،
تو امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
قرآن میں “تفرقہ” کو ہدایت کے بعد گمراہی کہا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اختلاف کیا
بعد اس کے کہ ان کے پاس صاف صاف دلیلیں آ چکی تھیں،
اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔”
(سورۃ آل عمران: ۱۰۵)
یہ آیت براہِ راست ان لوگوں کو متنبہ کرتی ہے جو علم رکھتے ہوئے اختلاف کو فتنہ بناتے ہیں۔
علم اگر اصلاح کے بجائے تفریق کا ذریعہ بن جائے
تو وہ روشنی نہیں رہتی، آگ بن جاتی ہے۔
علماء پر لازم ہے کہ وہ امت کے فکری و نظری اختلافات کو
قرآن کی بنیاد پر رحمت کے دائرے میں رکھیں، نہ کہ دشمنی کے دائرے میں۔
قرآن وحدت کو تقویٰ کے ساتھ مشروط کرتا ہے:
“بے شک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے،
اور میں تمہارا رب ہوں،
پس مجھ سے ڈرو۔”
(سورۃ المؤمنون: ۵۲)
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ وحدت کا سرچشمہ رب کی وحدانیت ہے۔
جب امت کا رب ایک ہے،
تو اس کے بندوں میں نفرت، ضد، اور تعصب کا کوئی جواز نہیں رہتا۔
قرآن نے اہلِ کتاب کے اختلاف کو مثال بنا کر امتِ محمدیہ کو متنبہ کیا۔
فرمایا:
“اور انہوں نے تفرقہ ڈال دیا اپنے دین میں اور گروہ گروہ بن گئے،
ہر جماعت اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔”
(سورۃ المؤمنون: ۵۳)
یہ آیت آج کے حالات پر صادق آتی ہے —
جب ہر گروہ اپنے مسلک، اپنے نام، اپنے عالم، اور اپنے مکتب پر خوش ہے،
اور دوسرے کو باطل سمجھتا ہے۔
حالانکہ قرآن نے اس طرزِ فکر کو غفلت اور جہالت قرار دیا ہے۔
علماء کا فریضہ ہے کہ وہ امت کے درمیان وہی کردار ادا کریں
جو نبی کریم ﷺ کے بعد قرآن نے “اولواالعلم” کے لیے مقرر فرمایا —
یعنی اختلاف کو اعتدال سے سنبھالنا،
اور لوگوں کو جوڑنا، توڑنا نہیں۔
قرآن اہلِ علم کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں،
اور فرشتے اور علم والے بھی (گواہی دیتے ہیں) کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔”
(سورۃ آل عمران: ۱۸)
یعنی عالم کی گواہی اس وقت معتبر ہے جب وہ عدل اور توحید کے اصول پر قائم ہو۔
اگر علم انصاف اور اتحاد سے الگ ہو جائے تو وہ بیکار علم ہے۔
قرآن تفرقہ پیدا کرنے والوں کے انجام کو سخت الفاظ میں بیان کرتا ہے:
“بے شک جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا
اور گروہ گروہ بن گئے،
تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔”
(سورۃ الانعام: ۱۵۹)
یہ اعلان اہلِ علم کے لیے ایک تنبیہ ہے —
کہ اگر وہ اختلاف کو امت کے خلاف استعمال کریں،
تو وہ نبی کی راہ سے جدا کر دیے جاتے ہیں۔
قرآن کے مطابق یہ سب سے بڑی محرومی ہے۔
علماء امت کے فکری معمار ہوتے ہیں۔
ان کے اقوال، فتاویٰ، اور بیانات عوام کے دلوں میں اثر ڈالتے ہیں۔
اگر وہ اپنے علم کو رحمت، حکمت اور اخلاص کے ساتھ پیش کریں،
تو معاشرہ جڑتا ہے۔
اور اگر وہ تعصب، ضد، اور اقتدار کے زیرِ اثر بولیں،
تو دل ٹوٹتے ہیں، امت بکھر جاتی ہے۔
قرآن علمائے حق کو وہ مقام دیتا ہے
جہاں وہ اختلاف کو فہم میں بدلتے ہیں،
نہ کہ فتنہ میں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جب ان کے پاس کوئی بات امن یا خوف کی آتی ہے،
تو وہ اسے مشہور کر دیتے ہیں،
اور اگر وہ اسے رسول یا اپنے میں سے صاحبِ اختیار لوگوں کے سپرد کرتے،
تو وہ اس کی حقیقت جان لیتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔”
(سورۃ النساء: ۸۳)
یعنی امت کے فکری بحرانوں میں
علماء کو جلد بازی یا جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے،
بلکہ حکمت، تحقیق، اور قرآن کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔
قرآن میں “امتِ واحدہ” کا تصور بار بار آیا ہے —
اور یہ بتاتا ہے کہ وحدت کوئی وقتی سیاسی نعرہ نہیں،
بلکہ ایمان کا عملی مظہر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے،
اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو۔”
(سورۃ الانبیاء: ۹۲)
یہاں “عبادت” اور “وحدت” کو ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے،
یعنی بندگی اگر خالص ہو تو امت بھی متحد رہتی ہے۔
علماء پر لازم ہے کہ وہ وحدتِ امت کے لیے
اپنے مسلکی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیں۔
قرآن کہتا ہے:
“اور جن لوگوں نے دین میں تفرقہ ڈالا
اور کئی فرقے بن گئے،
ہر جماعت اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔”
(سورۃ الروم: ۳۲)
یہ آیت تفرقہ کے نفسیاتی پہلو کو ظاہر کرتی ہے —
یعنی ہر گروہ اپنے سچ کو مکمل سچ سمجھ کر
دوسرے کو ردّ کر دیتا ہے۔
یہی وہ ذہنیت ہے جو امت کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
علماء کا کردار یہاں معمار اور معالج دونوں کا ہے۔
انہیں امت کے زخم بھرنے ہیں،
نہ کہ نئے زخم لگانے۔
انہیں قرآن کی زبان میں “داعی الی اللہ” ہونا ہے،
نہ کہ “داعی الی النفس”۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور کون ہے بہتر اس سے جس نے اللہ کی طرف بلایا
اور نیک عمل کیا،
اور کہا: میں مسلمان ہوں۔”
(سورۃ حٰم السجدہ: ۳۳)
یہی وہ عالم ہے جو امت کو جوڑتا ہے۔
اس کی دعوت اتحاد پیدا کرتی ہے،
اس کی زبان دلوں کو نرم کرتی ہے،
اور اس کا علم روشنی بن جاتا ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ امت کی عزت اور عروج
اسی وقت ممکن ہے جب وہ ایک صف میں ہو:
“بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے
جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہیں
گویا وہ ایک مضبوط دیوار ہیں۔”
(سورۃ الصف: ۴)
یہ آیت وحدت کی عملی تصویر ہے —
کہ ایمان والے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے متحد ہوتے ہیں۔
اور ان کی صف بندی قرآن کے اصولوں پر ہوتی ہے،
نہ کہ قومیت، زبان یا مسلک پر۔
علماء اگر قرآن کے اس پیغام کو محور بنا لیں،
تو امت میں ہر اختلاف علم کی روشنی سے حل ہو سکتا ہے۔
کیونکہ قرآن اختلاف کو فطری،
مگر تفرقہ کو شیطانی عمل قرار دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک امت بنا دیتا،
مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے،
سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا،
اور اسی لیے انہیں پیدا کیا گیا۔”
(سورۃ ہود: ۱۱۸–۱۱۹)
یہ آیت بتاتی ہے کہ اختلاف انسانی فطرت ہے،
مگر رحمت صرف ان کے لیے ہے
جو اختلاف کے باوجود دلوں کو جوڑتے ہیں۔
علماء کا فریضہ ہے کہ وہ انہی میں سے ہوں۔