توحیدِ اسماء و صفات — اللہ کی صفات میں یکتائی کا یقین
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کے لیے اپنے اسماء و صفات کو ذریعہ بنایا ہے۔
توحیدِ اسماء و صفات کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اور صفات یونہی منفرد اور بے مثال ہیں جیسے اس کی ذات۔
نہ اس کی کوئی صفت مخلوق جیسی ہے، نہ اس کے کسی نام میں شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں۔”
(سورۃ طٰہٰ: ۸، ترجمہ فتح محمد جالندھری)
یہ آیت ایک اعلانِ ایمان ہے —
کہ اللہ کی پہچان اسی کے ناموں اور صفات سے ہوتی ہے،
اور یہ نام کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ یا شرکت کے بغیر مانے جاتے ہیں۔
قرآن نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ
انسان کا دل یقین سے بھر جائے کہ کائنات میں جو کچھ ہے،
وہ سب اس ایک ذات کے علم، قدرت اور رحمت کے سائے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، پاک، سلامتی والا، امان دینے والا، محافظ، زبردست، غالب، بڑائی والا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔”
(سورۃ الحشر: ۲۳)
یہ آیت اسماء و صفات کی عظیم جامعیت رکھتی ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ربّ نہ صرف خالق ہے بلکہ
ہر حال میں اپنے بندوں کے ساتھ موجود ہے —
محافظ، نگران، مہربان، اور غالب۔
قرآن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کی صفات کو
مخلوق کی صفات پر قیاس کرنا بڑی گمراہی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اس کی مثل کوئی چیز نہیں، اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔”
(سورۃ الشوریٰ: ۱۱)
یہ آیت توحیدِ صفات کی اساس ہے۔
یعنی اللہ کی “سماع” اور “بصر” مخلوق کی طرح نہیں،
بلکہ ایسی شان کے ساتھ ہے جس کی حقیقت انسانی عقل نہیں پا سکتی۔
توحیدِ اسماء و صفات کا تقاضا یہ ہے کہ
انسان اللہ کی صفات پر ایمان لائے،
لیکن ان کی کیفیت، شکل یا حدود کا تصور نہ کرے۔
قرآن میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے:
“اور اللہ کے لیے سب سے اچھے نام ہیں،
پس انہیں پکارو ان ناموں سے،
اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کجی پیدا کرتے ہیں،
انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔”
(سورۃ الاعراف: ۱۸۰)
یہ آیت انسان کو دو ذمہ داریاں دیتی ہے —
پہلی، کہ وہ اللہ کی پہچان انہی صفات کے ذریعے حاصل کرے جنہیں قرآن نے بیان کیا۔
دوسری، کہ ان صفات کو تحریف یا تشبیہ سے پاک رکھے۔
قرآن میں صفاتِ باری تعالیٰ کا ذکر صرف عقیدہ نہیں بلکہ تربیتِ روح ہے۔
جب بندہ “رحمٰن” اور “رحیم” پر غور کرتا ہے تو اس کے اندر شفقت بیدار ہوتی ہے،
جب وہ “علیم” اور “خبیر” کو یاد کرتا ہے تو اپنی نیتوں کو درست کرتا ہے،
اور جب وہ “قہار” اور “جبّار” کو سمجھتا ہے تو غرور و سرکشی سے بچتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں شکلیں دیتا ہے رحم میں جیسی چاہتا ہے،
اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زبردست حکمت والا ہے۔”
(سورۃ آل عمران: ۶)
یہ آیت رب کی صفتِ تخلیق اور قدرت کو ظاہر کرتی ہے —
کہ اس کی صناعی بے مثال ہے، اور اس کے حکم کے بغیر کوئی وجود ظہور میں نہیں آتا۔
توحیدِ اسماء و صفات کا مفہوم یہ بھی ہے کہ
انسان اپنے رب کی صفات کو جان کر اس سے محبت کرے،
اور ان صفات کے مظاہر اپنی زندگی میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
اللہ کی “عدل” بندے کو انصاف سکھاتی ہے،
“علم” اسے علم کے احترام کا درس دیتی ہے،
اور “رحمت” اسے مخلوق کے لیے نرم دل بناتی ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔”
(سورۃ النساء: ۱۷)
یہ آیت ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ
کائنات کا نظام اندھا دھند نہیں، بلکہ حکمت و علم پر مبنی ہے۔
اس ربّ کی صفات انسان کو توازن، یقین اور بندگی کی راہ دکھاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور علم کی وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔”
(سورۃ البقرہ: ۲۰)
اور فرمایا:
“اور اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں،
انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا،
اور وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ سمندر میں،
اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے۔”
(سورۃ الانعام: ۵۹)
یہ ربوبیت اور الوہیت کی وحدت کا مظہر ہے۔
اللہ کی صفات نہ مخلوق میں کسی کے ساتھ شریک ہیں،
نہ ان کی حدود و کیفیت بیان کی جا سکتی ہے۔
وہ علم میں لامحدود، قدرت میں بے نیاز، اور رحمت میں بے پایاں ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ کی صفات دراصل ایمان کی بنیاد ہیں،
اور ان کی معرفت سے ہی بندگی میں اخلاص آتا ہے۔
جب انسان جان لیتا ہے کہ اس کا رب “سميع” ہے تو زبان پاک رکھتا ہے،
جب یقین ہوتا ہے کہ وہ “بصير” ہے تو عمل درست کرتا ہے،
اور جب یقین ہوتا ہے کہ وہ “حكيم” ہے تو تقدیر پر راضی رہتا ہے۔
قرآن کا یہ بیان روحِ ایمان کو زندہ کرتا ہے:
“اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے،
نہ اسے اونگھ پکڑتی ہے نہ نیند،
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔”
(سورۃ البقرہ: ۲۵۵)
یہ آیت “آیۃ الکرسی” ہے، اور توحیدِ صفات کا سب سے جامع بیان۔
یہ اللہ کی حیات، قیومیت، علم، قدرت، ملکیت، اور حفاظت کی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔
انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ رب کی صفات میں یقین رکھے،
انہیں کسی مخلوق پر قیاس نہ کرے،
اور ان کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں ظاہر کرے۔
یہی حقیقی ایمان ہے، یہی توحیدِ صفات کا ثمر ہے۔
قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ
اگر کوئی اللہ کی صفات میں شریک ٹھہراتا ہے —
مثلاً کسی اور کو قادر، علیم، نافع یا ضار مانتا ہے —
تو وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کہہ دو: تم اللہ کو ایسے نام سے بلاؤ یا رحمٰن کہہ کر،
جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔”
(سورۃ الاسراء: ۱۱۰)
یعنی اللہ کی پہچان اس کے ان ناموں سے ہے جو اس نے خود بیان کیے،
نہ کہ وہ جو انسان نے اپنی طرف سے تراش لیے۔
توحیدِ اسماء و صفات ایمان کو خالص کرتی ہے،
عبادت میں روح پیدا کرتی ہے،
اور انسان کے اندر وہ شعور بیدار کرتی ہے
کہ ربّ نہ صرف آسمانوں کا خالق ہے بلکہ دل کے حالوں سے بھی واقف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ہم تو اس سے بھی زیادہ قریب ہیں اس کی رگِ جان سے۔”
(سورۃ قٓ: ۱۶)
یہ قربِ الٰہی کا اعلان ہے —
کہ ربّ اپنی صفات کے ذریعے بندے کے ہر لمحے میں حاضر ہے۔
نہ وہ دور ہے، نہ غافل۔
یہ احساس ہی انسان کو خشیت، محبت اور یقین سے بھر دیتا ہے۔
آخر میں قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“وہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
پہلے اور پچھلے سب کا ربّ،
ظاہر اور باطن،
اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔”
(سورۃ الحدید: ۳)
یہی توحیدِ اسماء و صفات کا خلاصہ ہے —
کہ اللہ کی صفات لا محدود، بے مثال، اور کامل ہیں۔
جو بندہ ان صفات پر ایمان لاتا ہے،
اس کا ایمان روشنی بن جاتا ہے،
اور اس کی بندگی خالص ہو جاتی ہے۔