اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں زندگی گزارنے کے لیے وسائل عطا فرمائے، اور ان وسائل کی تقسیم میں عدل و توازن کا حکم دیا۔ قرآن میں معاشی انصاف کا تصور محض دولت کے تبادلے تک محدود نہیں بلکہ ایک اخلاقی، روحانی اور اجتماعی نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجے بلند کیے تاکہ تمہیں آزمائے جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے۔” (سورۃ الانعام: ۱۶۵)
یہ آیت انسان کے معاشی نظام کی بنیاد رکھتی ہے۔ دولت، طاقت، علم یا اختیار — سب آزمائش ہیں۔ جو شخص ان کو عدل کے ساتھ استعمال کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک کامیاب ہے، اور جو ان کو ظلم یا حرص کے لیے بروئے کار لاتا ہے، وہ خسارے میں ہے۔
قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ مال و دولت دراصل اللہ کی امانت ہے، انسان کی ذاتی ملکیت نہیں۔ انسان کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اسے کمائے، استعمال کرے، مگر ان حدود کے اندر جو عدل اور تقویٰ پر مبنی ہوں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور وہ لوگ جن کے مالوں میں حق مقرر ہے، سائل اور محروم کے لیے۔” (سورۃ المعارج: ۲۴–۲۵)
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ دولت صرف فرد کی ملکیت نہیں بلکہ اس میں معاشرے کے محروم طبقات کا بھی حق ہے۔ اسلامی معیشت کا سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ دولت کو صرف چند ہاتھوں میں جمع نہ ہونے دیا جائے۔
قرآن اس بات پر سخت تنبیہ کرتا ہے کہ اگر انسان دولت کے معاملے میں انصاف نہ کرے تو اس کا نتیجہ معاشرتی فساد اور اخلاقی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تاکہ یہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔” (سورۃ الحشر: ۷)
یہ اصول جدید معیشت کے سب سے بڑے مسئلے — دولت کی ناہمواری — کا حل دیتا ہے۔ اگر مال صرف دولت مندوں کے درمیان گردش کرے، تو طبقاتی تقسیم، غربت، بے روزگاری اور ظلم بڑھ جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اصل معاشی نظام تب درست ہوتا ہے جب ہر فرد کو اس کا حق ملے۔
آج کے سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی تقسیم چند ہاتھوں تک محدود ہو چکی ہے۔ دنیا کی اکثریت غربت، قرضوں، بے روزگاری اور افراطِ زر کا شکار ہے۔ قرآن ان حالات کو انسانی ظلم اور حرص کا نتیجہ قرار دیتا ہے، اور حکم دیتا ہے کہ نظامِ معیشت عدل، کفایت اور رحمت پر قائم ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور ناپ تول میں انصاف کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں کمی نہ دو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔” (سورۃ الشعراء: ۱۸۱–۱۸۳)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشی انصاف صرف ٹیکس یا زکات تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کے لین دین، کاروبار، تجارت اور منڈی کے نظام میں بھی عدل قائم رکھنا ضروری ہے۔
قرآن میں دولت کے غلط استعمال کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔” (سورۃ التوبہ: ۳۴)
یہ تنبیہ واضح کرتی ہے کہ دولت اگر صرف ذخیرہ کی جائے، گردش میں نہ رہے، اور معاشرتی فائدے کے لیے استعمال نہ ہو تو وہ بابرکت نہیں رہتی بلکہ زوال اور عذاب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسلامی معاشرت میں زکات، صدقہ اور انفاق محض عبادت نہیں بلکہ معاشی نظام کا توازن برقرار رکھنے کے ذرائع ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
“اور ان کے مالوں میں ایک حق ہے، مانگنے والے اور محروم کے لیے۔” (سورۃ الذاریات: ۱۹)
یعنی ہر صاحبِ ثروت شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ معاشرت کے محروم طبقوں کے لیے نکالے۔ یہی اصول معاشی مساوات کی بنیاد ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی دولت وہ نہیں جو جمع کی جائے بلکہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے۔
“جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایک دانے کی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں، ہر بالی میں سو دانے ہیں۔” (سورۃ البقرہ: ۲۶۱)
یہ آیت نہ صرف سخاوت کا درس دیتی ہے بلکہ یہ معاشی فلسفہ بھی بیان کرتی ہے کہ خرچ کرنے سے رزق کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ یہ قرآن کا اقتصادی اصولِ برکت ہے — جو سرمایہ داری کے اصولِ جمع سے بالکل مختلف ہے۔
دولت کی غیر منصفانہ تقسیم معاشرت میں حسد، بغض، جرائم، بدامنی اور طبقاتی تفریق پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس جب دولت عدل اور خیر کے اصول پر گردش کرتی ہے تو امن، تعاون، محبت اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بیشک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔” (سورۃ النحل: ۹۰)
یہ آیت محض اخلاقی تعلیم نہیں بلکہ ایک جامع معاشی نظریہ ہے۔ عدل، احسان اور خیر — یہی تین ستون کسی معاشی نظام کو پائیدار اور انسانی بناتے ہیں۔
انسان کی معیشت کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ خیر، توازن اور خدمتِ خلق ہے۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ اگر اللہ کے قوانینِ عدل کو چھوڑ دیا جائے تو دنیا میں تنگی اور فساد لازمی ہے۔
“اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کے سبب پکڑا۔” (سورۃ الاعراف: ۹۶)
یہ آیت موجودہ عالمی معاشی بحرانوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب انسان سود، حرص، ظلم، ذخیرہ اندوزی اور ناانصافی کو اختیار کرتا ہے تو برکت ختم ہو جاتی ہے، خواہ دولت بظاہر بڑھ جائے۔
قرآن کا معاشی پیغام واضح ہے:
دولت اللہ کی امانت ہے،
اس میں دوسروں کا حق موجود ہے،
عدل و توازن برقرار رکھنا فرض ہے،
اور ظلم یا حرص میں مبتلا ہونا معاشرتی بگاڑ کا باعث ہے۔
اگر انسان اس اصول کو مان لے تو زمین پر بھوک، غربت اور محرومی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
“اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بڑی کامیابی ہے۔” (سورۃ التغابن: ۹)