اسلامی حکمرانی کے اصول: قرآن و سنت کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حکمرانی اس نظام کا نہایت اہم جزو ہے، کیونکہ معاشرت میں عدل، انصاف اور امن کا قیام اسی سے مربوط ہے۔ قرآن مجید حکمرانوں کے لیے واضح اصول فراہم کرتا ہے تاکہ قیادت عوام کی بھلائی اور اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔ ایک مومن حکمران کی سب سے پہلی ذمہ داری اللہ اور اس کے احکام کی تعمیل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔” (سورۃ النساء: ۵۹)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حکمران کی اقتدار کی قانونی اور اخلاقی بنیاد صرف اللہ کے احکام پر ہونی چاہیے۔ اگر حکمران اس سے منحرف ہو جائے تو اس کی قیادت دنیا اور آخرت میں نقصان دہ ثابت ہوگی۔
عدل و انصاف کے قیام پر قرآن میں بار بار زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو! انصاف کے قیام کے لیے اللہ کے لیے گواہی دو، اگرچہ یہ تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہو۔” (سورۃ النساء: ۱۳۵)
یہ اصول ہر حکمران کے لیے لازمی ہے کہ وہ ہر فیصلہ میں انصاف کو ترجیح دے، خواہ معاملہ کسی عزیز یا طاقتور رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ عدل و انصاف کا فقدان معاشرت میں انتشار اور فساد کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں دنیاوی مفادات اور سیاسی دباؤ حکمرانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، قرآن کی یہ ہدایت حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ قیادت صرف اللہ کے احکام اور عوامی بھلائی کے مطابق ہونی چاہیے۔
اہم فیصلوں میں حکمران کی مشاورت بھی قرآن میں لازمی قرار دی گئی ہے:
“اور ان سے مشورہ کرو، پھر جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔” (سورۃ آل عمران: ۱۵۹)
یہ آیت حکمران کو یہ نصیحت کرتی ہے کہ بڑے فیصلے علمی، معاشرتی اور اخلاقی بنیاد پر کیے جائیں، اور عوامی رائے اور ماہرین کے علم کو شامل کر کے فیصلے کیے جائیں۔ مشاورت کے بعد پختہ یقین اور اللہ پر بھروسہ حکمران کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
حکمران کی سب سے بڑی ذمہ داری امانت داری اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالے کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔” (سورۃ النساء: ۵۸)
یہ آیت حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ ہر مالی، سیاسی اور انتظامی امانت اس کے لیے ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی خیانت یا ظلم قابل قبول نہیں ہے۔ فیصلوں میں عدل و انصاف قائم رکھنا معاشرت میں اعتماد کی بنیاد ہے۔
اسلام میں ظلم و زیادتی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم ظلم نہ کرو، کیونکہ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (سورۃ آل عمران: ۱۴۸)
یہ آیت حکمران کے لیے واضح تنبیہ ہے کہ کسی بھی طرح کی زیادتی یا غیر منصفانہ قبضے سے پرہیز ضروری ہے۔ ظلم سے پیدا ہونے والا فساد معاشرت میں عدم استحکام، غربت اور بغاوت کا سبب بنتا ہے۔ آج کے دور میں، جب حکومتی فیصلے عالمی اقتصادی اثرات اور سماجی دباؤ سے متاثر ہوتے ہیں، قرآن کے یہ اصول حکمران کے لیے رہنمائی کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔
حکمران کو اپنے اقتدار میں آنے والے وسائل اور طاقت کو عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اور انسانوں کے مال اور حقوق پر ناجائز قبضہ نہ کرو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۸۵)
یہ آیت ہر حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ اقتدار کی طاقت ایک امانت ہے اور اسے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا لازمی ہے۔ موجودہ معاشرت میں جہاں اقتصادی بدعنوانی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی دباؤ عام ہیں، قرآن کی یہ تعلیم رہنمائی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
حکمران کو ہر فیصلے میں عدل قائم رکھنا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جو لوگ اپنے فیصلے میں انصاف کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ کے نزدیک انعام ہے اور وہ نقصان سے محفوظ رہیں گے۔” (سورۃ النساء: ۱۳)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عدل قائم کرنا صرف دینی فریضہ نہیں بلکہ معاشرتی استحکام اور عوامی بھلائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ حکمران کے فیصلے اگر ذاتی مفاد یا طاقت کے لیے ہوں تو وہ معاشرت میں فساد پیدا کرتے ہیں اور عوام کا اعتماد ختم ہوتا ہے۔
حکمران کو اقتدار اور وسائل کے استعمال میں سادگی اور تواضع اختیار کرنی چاہیے تاکہ یہ اختیار ذاتی مفاد، عیش و عشرت یا ظلم کے لیے استعمال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اور اللہ کے مقرر کردہ حدود کو مت توڑو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۹۰)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے فیصلوں میں بلکہ اپنی طرزِ عمل میں بھی اصولوں کے پابند ہو۔ معاشرت میں استحکام، امن اور ترقی انہی اصولوں کے تحت ممکن ہے۔
حکمران کو اپنے فیصلے کرتے وقت عوامی مشاورت اور علمی مشورہ لازمی لینا چاہیے تاکہ ہر فیصلہ معاشرت کے عمومی بھلائی کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور ان سے مشورہ کرو، پھر جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔” (سورۃ آل عمران: ۱۵۹)
یہ آیت حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ ہر فیصلہ علم، فہم اور عوامی مشاورت پر مبنی ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں، جب اقتصادی نظام، تکنیکی ترقی اور سیاسی دباؤ حکمرانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، مشاورت اور اللہ پر بھروسہ ہی رہنمائی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
عوام کے حقوق کا تحفظ حکمران کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ ہر مالی، سیاسی یا انتظامی امانت عوام کے لیے ہے اور اس میں خیانت ناقابل قبول ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالے کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔” (سورۃ النساء: ۵۸)
یہ آیت حکمران کو یاد دلاتی ہے کہ امانت کی حفاظت اور عدل و انصاف ہر فیصلہ کی بنیاد ہونی چاہیے۔ عوامی اعتماد کی حفاظت اور حقوق کی پاسداری معاشرت میں استحکام اور فلاح کا سبب بنتی ہے۔
حکمران کو اپنے فیصلے کرتے وقت ہر سطح پر عوام کی بھلائی، انصاف اور شفافیت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جو لوگ انصاف قائم کرتے ہیں، اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ نقصان سے محفوظ رہیں گے۔” (سورۃ النساء: ۱۳)
یہ آیت حکمران کو یہ سکھاتی ہے کہ عدل قائم کرنا نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی بھلائی اور عوامی اعتماد کے لیے بھی لازمی ہے۔ آج کے دور میں جہاں عالمی اقتصادی نظام اور تکنیکی ترقی حکمرانوں کی پالیسیوں پر اثر ڈالتی ہیں، قرآن کی یہ ہدایت ہر فیصلہ میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقتدار میں آنے والے ہر معاملے میں اللہ کے احکام، عدل و انصاف اور عوامی بھلائی کو مدنظر رکھے۔ قرآن میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ہر حکمران دنیاوی فوائد، ذاتی مفاد یا طاقت کے لالچ میں آ کر اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہو۔ حکمران کا کردار معاشرت کے نظام کی بنیاد ہے، اور اس کی درست قیادت سے معاشرت میں امن، فلاح اور ترقی ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اور انسانوں کے مال اور حقوق پر ناجائز قبضہ نہ کرو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۸۵)
یہ آیت حکمران کے لیے یاد دہانی ہے کہ اقتدار کی طاقت عوام کی بھلائی اور معاشرتی انصاف کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔
حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف قانونی حدود میں رہے بلکہ اخلاقی اور دینی حدود کا بھی پابند ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور اللہ کے مقرر کردہ حدود کو مت توڑو۔” (سورۃ البقرہ: ۱۹۰)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر حکمران کو اپنی پالیسیوں اور عمل میں حدود کا احترام کرنا چاہیے تاکہ معاشرت میں استحکام اور ترقی قائم رہے۔
اسلامی حکمرانی میں یہ اصول نظریاتی نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ کیے جانے والے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی، اقتصادی نظام، سماجی تقسیم اور عالمی اثرات حکمران کی ذمہ داریوں کو پیچیدہ بناتے ہیں، وہاں قرآن کے یہ اصول ایک مؤمن حکمران کے لیے لازمی رہنمائی ہیں۔ حکمران کا علم صرف سیاسی یا فوجی نہیں بلکہ معاشرت، اقتصادیات، سائنس اور سماجی ڈھانچے کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ فیصلے حقیقی بھلائی، عوامی حقوق اور معاشرتی استحکام کے مطابق ہوں۔
اسلام میں حکمران کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اختیار میں آنے والے ہر معاملے میں اللہ کے احکام، عدل و انصاف اور عوامی بھلائی کو مدنظر رکھے۔ قرآن میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ہر حکمران دنیاوی فوائد، ذاتی مفاد یا طاقت کے لالچ میں آ کر اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہو۔ حکمران کا کردار معاشرت کے نظام کی بنیاد ہے، اور اس کی درست قیادت سے معاشرت میں امن، فلاح اور ترقی ممکن ہے۔