دلِ دیوانہ کو بازار بنانے والے
ہم تری راہ کو گلزار بنانے والے
پانی میں آگ لگا دیں گے ضرورت کے وقت
جو نیا دیس ہیں سرکار! بنانے والے
مصلحت بیچنے والوں سے نہیں کوئی کام
ہم ہیں خندق کو بھی کہسار بنانے والے
اہلِ زر کو جو حقیقت کا پتہ دے ڈالیں
دوست فریاد کو للکار بنانے والے
ہم جفا کار کے ہتھکنڈے سمجھتے ہیں سب
ہم ہیں الفاظ کو تلوار بنانے والے
دشمنِ وقت کا چہرہ بھی عیاں کر ڈالیں
ہم ہی پردے کو ہیں دیوار بنانے والے
روشنی بانٹتے پھرتے ہیں گھنے جنگل میں
ہم غزلؔ کانٹے کو گلزار بنانے والے
مزمل حسین چیمہ