نظامِ کن میں ارتقا ضروری ہے - فائنڈورا ادب

نظامِ کن میں ارتقا ضروری ہے

نعیم رضا بھٹی

تخلیق کار

نظامِ کن میں ارتقا ضروری ہے
ترا کرم تری رضا ضروری ہے

میں اپنی خاک آنسوؤں میں گوندھ لوں
کہ اک سبیلِ کیمیا ضروری ہے

فصاحتوں کی حبس میں پڑا ہوں میں
مجھے حجاز کی ہوا ضروری ہے

جو با مراد اشک ہیں سمیٹ لوں
سفر میں ہوں سو آسرا ضروری ہے

وہ سامنے ہوں اور نظر ہٹے نہیں
فقیر کو بس اک دعا ضروری ہے

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top
Scroll to Top