یہ الگ بات، کہ ہیں ہجر اٹھانے والے - فائنڈورا ادب

یہ الگ بات، کہ ہیں ہجر اٹھانے والے

یہ الگ بات، کہ ہیں ہجر اٹھانے والے
شعر کہہ سکتا ہوں میں یار منانے والے

کشتیاں ہم نے جلا دی ہیں کنارے پہ تمام
اب کہاں آئیں گے طوفاں سے بچانے والے

آنکھ میں اشک، لبوں پر ہے تبسم طاری
ہم ہیں کس درجہ ترے راز چھپانے والے

ان سے مل کر بھی سکوں دل کو نہ آیا جاناں
ہم کو الجھا گئے، وہ درد بٹانے والے

ہنس کے ملتے ہیں سرِ بزم سبھی سے لیکن
ہم ہیں خلوت میں بہت خود کو رلانے والے

سنگِ دل ہے وہ بہت، اس پہ اثر کیا ہوگا
بے سبب کیوں ہیں اسے زخم دکھانے والے

ہم سے مت پوچھ کہ ہم درد کے ماروں پہ غزل
طنز کرتے ہیں بہت آج زمانے والے
Scroll to Top
Scroll to Top