چہکتی شب میں سسکتا ہوا الاپ سنو!
اک اعتبار گزیدہ قدم کی چاپ سنو!
وہ شہوار بچھڑ کر بھی جا چکا ہوگا
اب انتظار سمیٹو ! ، دھوئیں کی ٹاپ سنو!
یہ مرحلہ ہے فقط عشق کے مریضوں کا
تم ابتدائی اداسی سے جھڑتی تھاپ سنو!
سخن ہے رزق مجھے بھی ملا مرا حصہ
مرے کہے پر کسی کی نہیں ہے چھاپ ۔۔ سنو!
میں اس کے سائے میں رہ کر بڑا ہوا ہوں رضا
مرے لیے گلِ احمر ہے میرا باپ سنو!