خواب اور عشق کے اثر سے نکل
کر نہ تاخیر چشمِ تر سے نکل
پیڑ کو چھوڑ اپنی چھاؤں بنا
کام مشکل نہیں تو ڈر سے نکل
دیکھتا کیا ہے؟ یہ پھٹا کرتا؟
بھاگ یوسف تو اس شہر سے نکل
جس کو ماں باپ کا خیال نہیں
پھینک کر تھوک اس کے گھر سے نکل
تیرے آنسو ہی تیرا زیور ہیں
قدر کر لے رضاؔ مفر سے نکل