اے ربِ تقدس
تری تقدیس کے مارے
سجدے میں رگڑتے ہیں جبینوں کے ستارے
سیارہ و تقدیرِ سفر کھینچ رہا ہے
لا وقت، تدبر سے اثر کھینچ رہا ہے
کس حال میں ہم عقدہ کشاں دیکھ رہے ہیں
تجھ بھید کا کھلنا بھی تو ہے کھلنا ہمارا
اے سرِ زماں
لفظ کی توقیر کے صدقے
تاثیر بس اک نکتہ ملفوف سے نکلے
اور طور کے اس پار تجلی کی نمو ہو
تری تقدیس کے مارے
سجدے میں رگڑتے ہیں جبینوں کے ستارے
سیارہ و تقدیرِ سفر کھینچ رہا ہے
لا وقت، تدبر سے اثر کھینچ رہا ہے
کس حال میں ہم عقدہ کشاں دیکھ رہے ہیں
تجھ بھید کا کھلنا بھی تو ہے کھلنا ہمارا
اے سرِ زماں
لفظ کی توقیر کے صدقے
تاثیر بس اک نکتہ ملفوف سے نکلے
اور طور کے اس پار تجلی کی نمو ہو