وہ تشنگی جسے صحرا کا نام بھول گیا - فائنڈورا ادب

وہ تشنگی جسے صحرا کا نام بھول گیا

وہ تشنگی جسے صحرا کا نام بھول گیا
ملی مجھے تو میں اپنی لگام بھول گیا

اسے عزیز ہے نام و نمود وہ خوش ہے
میں جس کے واسطے اپنا مقام بھول گیا

دیے کی لو مری سانسیں بحال رکھتی تھی
اسیر ہو کے مجھے انہزام بھول گیا

خوشی ہوئی کہ اسے تم بھی راس آیا نہیں
خوشی ہوئی کہ وہ مجھ کو مدام بھول گیا

جلے ہوئے میں نہیں جذب کی سکت سو رضا
جراحتوں کے بھی اہتمام بھول گیا

Scroll to Top
Scroll to Top